عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أُنَاسٍ خُصُومَةٌ فِي أَرْضٍ، فَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَ لَهَا ذَلِكَ، فَقَالَتْ يَا أَبَا سَلَمَةَ اجْتَنِبِ الأَرْضَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ".
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Hadrat Abu Salama bin Hadrat 'Abd al-Rahman (upon him be mercy) that he had a dispute with some people regarding a piece of land. He went to Umm al-Mu'minin Hadrat ' Aisha al-Siddiqa (may Allah be well pleased with her) and mentioned the matter to her. She said: O Abu Salama! Beware of (wrongfully taking) land, for the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) declared: Whoever unjustly takes even a span of land, on the Day of Resurrection a collar from the seven earths shall be placed around his neck.
اردو ترجمہ
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت ہے کہ ان کا ایک زمین کے بارے میں کچھ لوگوں سے جھگڑا تھا۔ وہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے واقعہ بیان کیا۔ آپ نے فرمایا: اے حضرت ابوسلمہ! (کسی کی) زمین سے بچو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جس نے ایک بالشت بھر بھی زمین ظلماً دبا لی تو قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق اس کی گردن میں ڈالا جائے گا۔
