عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَهْلَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَكُنْتُ مِمَّنْ تَمَتَّعَ، وَلَمْ يَسُقِ الْهَدْىَ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا حَاضَتْ، وَلَمْ تَطْهُرْ حَتَّى دَخَلَتْ لَيْلَةُ عَرَفَةَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ لَيْلَةُ عَرَفَةَ، وَإِنَّمَا كُنْتُ تَمَتَّعْتُ بِعُمْرَةٍ. فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " انْقُضِي رَأْسَكِ، وَامْتَشِطِي، وَأَمْسِكِي عَنْ عُمْرَتِكِ ". فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْتُ الْحَجَّ أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ فَأَعْمَرَنِي مِنَ التَّنْعِيمِ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي نَسَكْتُ.
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) that she stated: I assumed the Ihram along with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) for the Farewell Hajj. I was among those who intended Hajj al-Tamattu' and had not brought the Hadi (sacrificial animal) with me. Then I got my menses and could not become clean until the night of Arafa arrived. I submitted, 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), it is the night of Arafa and I had intended to perform Umra (for Hajj al-Tamattu').' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'Undo your hair, comb it, and abandon the Umra.' I did so. Then when I completed the Hajj, on the night of al-Hasba, he ordered Hadrat Abdur-Rahman (may Allah be well pleased with him) (to accompany me), and he took me to at-Tan'im to perform Umra in place of the one I had intended.
اردو ترجمہ
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن شہاب زہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عروہ سے بیان کیا کہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں احرام باندھا اور میں حجِ تمتع کرنے والوں میں سے تھی اور ہدی (قربانی کا جانور) اپنے ساتھ نہیں لائی تھی۔ پھر مجھے حیض آ گیا اور عرفہ کی رات آنے تک پاک نہ ہو سکی۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آج عرفہ کی رات ہے اور میں نے عمرہ کی نیت کی تھی (حجِ تمتع کے لیے)۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنا سر کھول لو اور کنگھا کرو اور عمرہ چھوڑ دو۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ پھر جب حج پورا ہو گیا تو لیلۃ الحصبہ میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم فرمایا اور وہ مجھے تنعیم سے اس عمرہ کے بدلے جو میں نے (پہلے) نیت کیا تھا، عمرہ کرا کر لائے۔
