عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُوَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ لِعُرْوَةَ ابْنَ أُخْتِي، إِنْ كُنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى الْهِلاَلِ ثُمَّ الْهِلاَلِ، ثَلاَثَةَ أَهِلَّةٍ فِي شَهْرَيْنِ، وَمَا أُوقِدَتْ فِي أَبْيَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَارٌ. فَقُلْتُ يَا خَالَةُ مَا كَانَ يُعِيشُكُمْ قَالَتِ الأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ، إِلاَّ أَنَّهُ قَدْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جِيرَانٌ مِنَ الأَنْصَارِ كَانَتْ لَهُمْ مَنَائِحُ، وَكَانُوا يَمْنَحُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَلْبَانِهِمْ، فَيَسْقِينَا.
انگریزی ترجمہ
Narrated to us by Abdul-Aziz bin Abdullah al-Uwaisi, narrated to us by Ibn Abi Hazim, from his father, from Yazid bin Ruman, from Urwah, that Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha Siddiqah (may Allah be well pleased with her) said to Urwah, 'O my nephew! We would see three crescent moons in two months, and no fire would be lit in the dwellings of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) (meaning no food would be cooked).' I submitted, 'O aunt! What sustained you?' She stated, 'The two dark things: dates and water. However, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) had neighbors from the Ansar who had milch animals, and they would send some of their milk as a gift to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and he would give it to us to drink.'
اردو ترجمہ
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی حازم نے بیان کیا، اپنے والد سے، یزید بن رومان سے، عروہ سے، حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عروہ سے فرمایا: میرے بھانجے! ہم تین چاند دیکھ لیتے تھے، دو ماہ گزر جاتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے حجروں میں آگ نہیں جلائی جاتی تھی (یعنی کھانا نہیں پکتا تھا)۔ میں نے عرض کیا: اے خالہ! آپ لوگوں کی گزر کیسے ہوتی تھی؟ فرمایا: دو سیاہ چیزوں سے، کھجور اور پانی سے۔ البتہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے انصاری پڑوسی تھے جن کے پاس دودھ والے جانور تھے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ان کا دودھ ہدیے میں بھیجا کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہمیں پلاتے تھے۔
