عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانُوا يَتَبَايَعُونَ الْجَزُورَ إِلَى حَبَلِ الْحَبَلَةِ، فَنَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْهُ. فَسَّرَهُ نَافِعٌ أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ مَا فِي بَطْنِهَا.
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Hadrat Abdullah (bin Umar) (may Allah be well pleased with him) who states: People used to buy and sell camels on the basis of Habal al-Habala. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) forbade this. Nafi' explained Habal al-Habala as: (selling on credit) until the she-camel delivers what is in her womb (i.e., selling on such a distant term).
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: لوگ حبلِ حبلہ کی بنیاد پر اونٹ کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ نافع نے حبلِ حبلہ کی تفسیر یہ کی: اونٹنی کے پیٹ میں جو (بچہ) ہے اس کے پیدا ہونے تک (یعنی اتنی دور کی مدت تک ادھار بیچنا)۔
