حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِصْنَ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىِّ بْنِ أَخْطَبَ، وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا، وَكَانَتْ عَرُوسًا، فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِنَفْسِهِ فَخَرَجَ بِهَا، حَتَّى بَلَغْنَا سَدَّ الرَّوْحَاءِ حَلَّتْ، فَبَنَى بِهَا، ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ صَغِيرٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " آذِنْ مَنْ حَوْلَكَ ". فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى صَفِيَّةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحَوِّي لَهَا وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ، ثُمَّ يَجْلِسُ عِنْدَ بَعِيرِهِ فَيَضَعُ رُكْبَتَهُ، فَتَضَعُ صَفِيَّةُ رِجْلَهَا عَلَى رُكْبَتِهِ، حَتَّى تَرْكَبَ.
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Hadrat Anas bin Malik (may Allah be well pleased with him) who states: The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) arrived at Khaibar. When Allah the Exalted granted him victory over the fortress, the beauty of (Umm al-Mu'minin) Hadrat Safiyya bint Huyayy bin Akhtab (may Allah be well pleased with her) was mentioned to him. Her husband had been killed and she was a bride. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) chose her for himself. He set out with her in his company. When we reached Sadd al-Rawha', her waiting period was complete. He (blessings and peace of Allah be upon him) consummated the marriage with her. Then a Hays (a dish of dates, clarified butter, and cheese) was prepared on a small leather mat. Then the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated (to Hadrat Anas, may Allah be well pleased with him): Inform those around you (about the wedding feast). That was the wedding banquet of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) for (Umm al-Mu'minin) Hadrat Safiyya (may Allah be well pleased with her). Then we departed for Madinah al-Munawwarah. Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) states: I saw the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) making a screen for her behind him with his cloak, and he would sit beside his camel and place his blessed knee so that Hadrat Safiyya (may Allah be well pleased with her) could place her foot on his knee to mount.
اردو ترجمہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم خیبر تشریف لائے۔ جب اللہ تعالیٰ نے قلعہ فتح فرما دیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے (اُمّ المؤمنین) حضرت اُمّ المؤمنین صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حسن کا ذکر کیا گیا۔ ان کا شوہر قتل ہو چکا تھا اور وہ ابھی دلہن تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اپنے لیے چن لیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم انہیں ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ جب ہم سدّ الروحاء پہنچے تو ان کی عدت پوری ہو گئی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے خلوت فرمائی۔ پھر ایک چھوٹے دسترخوان پر حَیس (کھجور، گھی اور پنیر سے بنا پکوان) تیار کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے (حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے) ارشاد فرمایا: اپنے اردگرد کے لوگوں کو (ولیمے کی) خبر کر دو۔ یہی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا (اُمّ المؤمنین) حضرت اُمّ المؤمنین صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ولیمہ تھا۔ پھر ہم مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم عباء سے ان کے لیے اپنے پیچھے پردہ فرماتے تھے، اور اپنے اونٹ کے پاس بیٹھ کر اپنا زانو مبارک رکھتے تاکہ حضرت اُمّ المؤمنین صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنا پاؤں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زانو پر رکھ کر سوار ہوں۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (5)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحیح بخاری
قَدِمْنَا خَيْبَرَ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِصْنَ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىِّ بْنِ أَخْطَبَ، وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا وَكَانَتْ عَرُوسًا، فَاصْطَفَاهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِنَفْسِه…
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِصْنَ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىِّ بْنِ أَخْطَبَ، وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا، وَكَانَتْ عَرُوسًا، فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِنَفْسِهِ فَخَرَجَ بِهَا، حَتَّى بَلَغْنَا سَدَّ الرَّوْحَاءِ حَلَّتْ، فَبَنَى بِهَا، ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ صَغِيرٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " آذِنْ مَنْ حَوْلَكَ ". فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى صَفِيَّةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحَوِّي لَهَا وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ، ثُمَّ يَجْلِسُ عِنْدَ بَعِيرِهِ فَيَضَعُ رُكْبَتَهُ، فَتَضَعُ صَفِيَّةُ رِجْلَهَا عَلَى رُكْبَتِهِ، حَتَّى تَرْكَبَ.
It is narrated from Hadrat Anas bin Malik (may Allah be well pleased with him) who states: The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) arrived at Khaibar. When Allah the Exalted granted him victory over the fortress, the beauty of (Umm al-Mu'minin) Hadrat Safiyya bint Huyayy bin Akhtab (may Allah be well pleased with her) was mentioned to him. Her husband had been killed and she was a bride. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) chose her for himself. He set out with her in his company. When we reached Sadd al-Rawha', her waiting period was complete. He (blessings and peace of Allah be upon him) consummated the marriage with her. Then a Hays (a dish of dates, clarified butter, and cheese) was prepared on a small leather mat. Then the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated (to Hadrat Anas, may Allah be well pleased with him): Inform those around you (about the wedding feast). That was the wedding banquet of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) for (Umm al-Mu'minin) Hadrat Safiyya (may Allah be well pleased with her). Then we departed for Madinah al-Munawwarah. Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) states: I saw the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) making a screen for her behind him with his cloak, and he would sit beside his camel and place his blessed knee so that Hadrat Safiyya (may Allah be well pleased with her) could place her foot on his knee to mount.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم خیبر تشریف لائے۔ جب اللہ تعالیٰ نے قلعہ فتح فرما دیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے (اُمّ المؤمنین) حضرت اُمّ المؤمنین صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حسن کا ذکر کیا گیا۔ ان کا شوہر قتل ہو چکا تھا اور وہ ابھی دلہن تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اپنے لیے چن لیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم انہیں ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ جب ہم سدّ الروحاء پہنچے تو ان کی عدت پوری ہو گئی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے خلوت فرمائی۔ پھر ایک چھوٹے دسترخوان پر حَیس (کھجور، گھی اور پنیر سے بنا پکوان) تیار کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے (حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے) ارشاد فرمایا: اپنے اردگرد کے لوگوں کو (ولیمے کی) خبر کر دو۔ یہی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا (اُمّ المؤمنین) حضرت اُمّ المؤمنین صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ولیمہ تھا۔ پھر ہم مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم عباء سے ان کے لیے اپنے پیچھے پردہ فرماتے تھے، اور اپنے اونٹ کے پاس بیٹھ کر اپنا زانو مبارک رکھتے تاکہ حضرت اُمّ المؤمنین صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنا پاؤں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زانو پر رکھ کر سوار ہوں۔