عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ سَمِعْتُ بُشَيْرًا، قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا. وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى إِلاَّ أَنَّهُ رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ يَبِيعُهَا أَهْلُهَا بِخَرْصِهَا، يَأْكُلُونَهَا رُطَبًا. قَالَ هُوَ سَوَاءٌ. قَالَ سُفْيَانُ فَقُلْتُ لِيَحْيَى وَأَنَا غُلاَمٌ إِنَّ أَهْلَ مَكَّةَ يَقُولُونَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا. فَقَالَ وَمَا يُدْرِي أَهْلَ مَكَّةَ قُلْتُ إِنَّهُمْ يَرْوُونَهُ عَنْ جَابِرٍ. فَسَكَتَ. قَالَ سُفْيَانُ إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنَّ جَابِرًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ. قِيلَ لِسُفْيَانَ وَلَيْسَ فِيهِ نَهْىٌ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهُ قَالَ لاَ.
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Hadrat Sahl bin Abi Hathma (may Allah be well pleased with him) that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) forbade the selling of fresh dates (on the trees) for dried dates, but granted permission for the Ariya to be sold by estimation so that its owners might eat their dates fresh. Sufyan narrated it another time as: except that he granted permission for the Ariya -- its owners may sell it by estimation and eat the dates fresh. He said: Both wordings are the same. Sufyan states: I said to Yahya -- and I was a young boy at the time -- that the people of Makkah say that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) granted permission for the sale of Araya. Yahya asked: How would the people of Makkah know about this? I replied: They narrate it from Hadrat Jabir (may Allah be well pleased with him). At this, he fell silent. Sufyan states: I meant that Hadrat Jabir (may Allah be well pleased with him) was from the people of Madinah. Sufyan was asked: Does this (Hadrat Jabir's) hadith also contain the prohibition of selling fruits before their ripeness becomes evident? He replied: No.
اردو ترجمہ
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے درخت پر لگے ہوئے تازہ پھل خشک کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا، لیکن عریّہ کی اجازت دی کہ اسے اندازے سے بیچ سکتے ہیں تاکہ اس کے مالک تازہ کھجوریں کھا سکیں۔ سفیان نے دوسری مرتبہ یوں بیان کیا: البتہ عریّہ کی اجازت دی، اس کے مالک اسے اندازے سے بیچیں اور تازہ کھجوریں کھائیں۔ فرمایا: دونوں (الفاظ) ایک ہی ہیں۔ سفیان فرماتے ہیں: میں نے یحییٰ سے عرض کیا (اس وقت میں کم عمر تھا) کہ اہلِ مکہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے عرایا کی بیع کی اجازت دی ہے۔ یحییٰ نے فرمایا: اہلِ مکہ کو اس کا کیسے علم ہوا؟ میں نے عرض کیا: وہ اسے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ اس پر وہ خاموش ہو گئے۔ سفیان فرماتے ہیں: میری مراد یہ تھی کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو اہلِ مدینہ میں سے ہیں۔ سفیان سے پوچھا گیا: کیا اس (حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی) حدیث میں پھلوں کو پکنے سے پہلے بیچنے کی ممانعت بھی ہے؟ فرمایا: نہیں۔
