عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَتْ عُكَاظٌ وَمِجَنَّةُ وَذُو الْمَجَازِ أَسْوَاقًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا كَانَ الإِسْلاَمُ فَكَأَنَّهُمْ تَأَثَّمُوا فِيهِ فَنَزَلَتْ {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلاً مِنْ رَبِّكُمْ } فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ، قَرَأَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ.
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) that Ukaz, Majanna and Dhul-Majaz were marketplaces in the pre-Islamic period of ignorance. When Islam came, the Muslims considered it sinful to trade there (during the Hajj season). Then the Divine Revelation came: There is no sin upon you that you seek the bounty of your Lord (during the Hajj seasons) (2:198). Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) recited the verse in this manner.
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز زمانہ جاہلیت کے بازار تھے۔ جب اسلام آیا تو مسلمانوں نے ان بازاروں میں (حج کے موسم میں) تجارت کرنا گناہ سمجھا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی: تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے رب کے فضل (یعنی رزقِ حلال) کی تلاش کرو (حج کے موسموں میں)۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اسے اسی طرح تلاوت فرمایا۔
