عربی (اصل)
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ـ رضى الله عنه ـ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، شَهِدَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ كُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ كَذَا قَبْلَ كَذَا. ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ كُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ كَذَا قَبْلَ كَذَا حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ، نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. وَأَشْبَاهَ ذَلِكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ ". لَهُنَّ كُلِّهِنَّ، فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَىْءٍ إِلاَّ قَالَ افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ.
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat 'Abdullah bin 'Amr bin al-'As (may Allah be well pleased with them both) that he witnessed the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) delivering the sermon on the Day of Nahr. A man stood up and submitted, 'I thought such-and-such was to be done before such-and-such.' Then another stood up and submitted, 'I thought such-and-such was to be done before such-and-such. I got my head shaved before slaughtering. I slaughtered before doing the Rami (stoning).' And similar questions were asked. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'Do it now, there is no harm in any of these.' Whatever he was asked about that day, he stated, 'Do it and there is no harm.'
اردو ترجمہ
ہم سے سعید بن یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عیسیٰ بن حضرت طلحہ نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم دسویں تاریخ کو منیٰ میں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو وہ وہاں موجود تھے۔ ایک شخص نے اس وقت کھڑے ہو کر عرض کیا کہ میں اس خیال میں تھا کہ فلاں کام فلاں سے پہلے ہے، پھر دوسرا کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ میرا خیال تھا کہ فلاں کام فلاں سے پہلے ہے، چنانچہ میں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا، رمی جمار سے پہلے قربانی کر لی، اور اسی طرح کے اور سوالات بھی ہوئے۔ تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اب کر لو، ان سب میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح کے دوسرے سوالات بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے کیے گئے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب کے جواب میں یہی ارشاد فرمایا کہ کوئی حرج نہیں اب کر لو۔
