Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) was asked about Hajj al-Tamattu'. He said: The Muhajirun, the Ansar, the blessed wives of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), and we all assumed Ihram in the Farewell Pilgrimage. When we arrived in Makkah, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'Convert your Hajj Ihram into Umra, except whoever has garlanded his sacrificial animal.' So we performed Tawaf of the Ka'bah and Sa'i between Safa and Marwa, went to our wives, and wore regular garments. He (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'Whoever has garlanded his sacrificial animal cannot be free from Ihram until the sacrifice reaches its destination.' Then on the evening of the Day of Tarwiyah (8th Dhul Hijjah), he ordered us to assume Ihram for Hajj. When we completed the rites of Hajj, we performed Tawaf of the Ka'bah and Sa'i between Safa and Marwa, and our Hajj was complete. We were then obligated to offer a sacrifice, as Allah Most High says: 'Whatever sacrifice is available — and whoever cannot find one should fast three days during Hajj and seven upon returning' to your homes. A sheep suffices. So the people combined two acts of worship — Hajj and Umra — in one year. Allah Most High revealed this in His Book, His Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) established it as Sunnah, and made it permissible for all except the residents of Makkah. Allah says: 'This is for him whose family does not reside near al-Masjid al-Haram.' The months of Hajj mentioned by Allah Most High are Shawwal, Dhul Qa'dah, and Dhul Hijjah. Whoever performs Tamattu' in these months must offer a sacrifice or fast. 'Rafath' means conjugal relations, 'Fusuq' means sins, and 'Jidal' means disputing.
اردو ترجمہ
اور ابو کامل فضیل بن حسین بصری نے بیان کیا کہ ہم سے ابومعشر یوسف بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حضرت عثمان بن غیاث نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے حجِ تمتع کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ نے فرمایا: حجۃ الوداع کے موقع پر مہاجرین، انصار، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ازواجِ مطہرات اور ہم سب نے احرام باندھا تھا۔ جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حج کے احرام کو عمرہ بنا لو، سوائے اس کے جس نے قربانی کے جانور کو ہار ڈالا ہو۔ ہم نے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کی، بیویوں کے پاس آئے اور (سلے ہوئے) کپڑے پہنے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہدی کو ہار ڈالا ہو اس کے لیے قربانی اپنی جگہ پہنچنے تک حلال ہونا جائز نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں یومِ ترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) کی شام کو حج کا احرام باندھنے کا حکم فرمایا۔ جب ہم مناسکِ حج سے فارغ ہوئے تو بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کی، پھر ہمارا حج مکمل ہو گیا اور ہم پر قربانی واجب ہوئی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: «فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ» (جسے قربانی میسر ہو وہ قربانی کرے اور جسے نہ ملے وہ تین روزے حج میں اور سات اپنے گھر واپس لوٹ کر رکھے)۔ بکری بھی کافی ہے۔ تو لوگوں نے حج اور عمرہ دونوں عبادتیں ایک سال میں جمع کیں۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی کتاب میں یہ حکم نازل فرمایا، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر عمل کر کے سنت بنایا اور اہلِ مکہ کے سوا سب کے لیے جائز قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «ذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ» (یہ اس کے لیے ہے جس کے گھر والے مسجدالحرام کے قریب نہ رہتے ہوں)۔ اور حج کے مہینے جن کا قرآن میں ذکر ہے وہ شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ ہیں۔ ان مہینوں میں جو کوئی تمتع کرے اس پر قربانی یا روزے واجب ہیں۔ «رفث» کا مطلب جماع ہے، «فسوق» کا مطلب گناہ ہے اور «جدال» کا مطلب جھگڑا ہے۔
Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) was asked about Hajj al-Tamattu'. He said: The Muhajirun, the Ansar, the blessed wives of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), and we all assumed Ihram in the Farewell Pilgrimage. When we arrived in Makkah, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'Convert your Hajj Ihram into Umra, except whoever has garlanded his sacrificial animal.' So we performed Tawaf of the Ka'bah and Sa'i between Safa and Marwa, went to our wives, and wore regular garments. He (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'Whoever has garlanded his sacrificial animal cannot be free from Ihram until the sacrifice reaches its destination.' Then on the evening of the Day of Tarwiyah (8th Dhul Hijjah), he ordered us to assume Ihram for Hajj. When we completed the rites of Hajj, we performed Tawaf of the Ka'bah and Sa'i between Safa and Marwa, and our Hajj was complete. We were then obligated to offer a sacrifice, as Allah Most High says: 'Whatever sacrifice is available — and whoever cannot find one should fast three days during Hajj and seven upon returning' to your homes. A sheep suffices. So the people combined two acts of worship — Hajj and Umra — in one year. Allah Most High revealed this in His Book, His Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) established it as Sunnah, and made it permissible for all except the residents of Makkah. Allah says: 'This is for him whose family does not reside near al-Masjid al-Haram.' The months of Hajj mentioned by Allah Most High are Shawwal, Dhul Qa'dah, and Dhul Hijjah. Whoever performs Tamattu' in these months must offer a sacrifice or fast. 'Rafath' means conjugal relations, 'Fusuq' means sins, and 'Jidal' means disputing.
اور ابو کامل فضیل بن حسین بصری نے بیان کیا کہ ہم سے ابومعشر یوسف بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حضرت عثمان بن غیاث نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے حجِ تمتع کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ نے فرمایا: حجۃ الوداع کے موقع پر مہاجرین، انصار، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ازواجِ مطہرات اور ہم سب نے احرام باندھا تھا۔ جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حج کے احرام کو عمرہ بنا لو، سوائے اس کے جس نے قربانی کے جانور کو ہار ڈالا ہو۔ ہم نے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کی، بیویوں کے پاس آئے اور (سلے ہوئے) کپڑے پہنے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہدی کو ہار ڈالا ہو اس کے لیے قربانی اپنی جگہ پہنچنے تک حلال ہونا جائز نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں یومِ ترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) کی شام کو حج کا احرام باندھنے کا حکم فرمایا۔ جب ہم مناسکِ حج سے فارغ ہوئے تو بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کی، پھر ہمارا حج مکمل ہو گیا اور ہم پر قربانی واجب ہوئی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: «فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ» (جسے قربانی میسر ہو وہ قربانی کرے اور جسے نہ ملے وہ تین روزے حج میں اور سات اپنے گھر واپس لوٹ کر رکھے)۔ بکری بھی کافی ہے۔ تو لوگوں نے حج اور عمرہ دونوں عبادتیں ایک سال میں جمع کیں۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی کتاب میں یہ حکم نازل فرمایا، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر عمل کر کے سنت بنایا اور اہلِ مکہ کے سوا سب کے لیے جائز قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «ذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ» (یہ اس کے لیے ہے جس کے گھر والے مسجدالحرام کے قریب نہ رہتے ہوں)۔ اور حج کے مہینے جن کا قرآن میں ذکر ہے وہ شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ ہیں۔ ان مہینوں میں جو کوئی تمتع کرے اس پر قربانی یا روزے واجب ہیں۔ «رفث» کا مطلب جماع ہے، «فسوق» کا مطلب گناہ ہے اور «جدال» کا مطلب جھگڑا ہے۔