It is narrated by Hadrat Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be well pleased with him) that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) went out to the prayer ground on Eid al-Adha or Eid al-Fitr. After the prayer, he delivered a sermon to the people and enjoined them to give charity. He stated, 'O people! Give charity.' Then he went towards the women and stated, 'O women! Give charity, for I have seen that the majority of the dwellers of Hell-fire are you women.' They submitted, 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Why is that?' He stated, 'You curse frequently and are ungrateful to your husbands. I have not seen anyone more deficient in intellect and religion who can overpower even a resolute, experienced man than one of you, O women!' Then he returned, and when he reached his home, Hadrat Zainab (may Allah be well pleased with her), the wife of Hadrat Ibn Mas'ud (may Allah be well pleased with him), came seeking permission to enter. It was said to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), 'It is Hadrat Zainab.' He inquired, 'Which Hadrat Zainab?' (since there were many women by that name). It was said, 'The wife of Hadrat Ibn Mas'ud.' He stated, 'Very well, grant her permission.' She was admitted and submitted, 'O the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) of Allah! Today you enjoined charity, and I had some jewelry that I wanted to give in charity, but Hadrat Ibn Mas'ud considers that he and his children are more deserving of it than those to whom I would give charity.' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, Hadrat 'Ibn Mas'ud spoke correctly. Your husband and your children are more deserving of your charity than others.' (This shows that if one's relatives are in need, they are the first to deserve one's charity.)
اردو ترجمہ
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں محمد بن جعفر نے خبر دی، کہا کہ مجھے زید بن اسلم نے خبر دی، انہیں عیاض بن عبداللہ نے، اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم عیدالاضحی یا عیدالفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے۔ پھر (نماز کے بعد) لوگوں کو وعظ فرمایا اور صدقہ کا حکم دیا۔ ارشاد فرمایا: لوگو! صدقہ دو۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم خواتین کی طرف تشریف لے گئے اور ان سے بھی یہی ارشاد فرمایا: اے عورتو! صدقہ دو، کیونکہ میں نے جہنم میں بکثرت تم ہی کو دیکھا ہے۔ عورتوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسا کیوں ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس لیے کہ تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو اور اپنے شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ میں نے تم سے زیادہ عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص ایسی کوئی مخلوق نہیں دیکھی جو کار آزمودہ مرد کی عقل کو بھی اپنی مٹھی میں لے لیتی ہو۔ ہاں اے عورتو! پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لائے اور جب گھر پہنچے تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا آئیں اور حاضری کی اجازت چاہی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ یہ زینب تشریف لائی ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کون سی زینب؟ (کیونکہ زینب نام کی بہت سی خواتین تھیں) عرض کیا گیا: حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اچھا، انہیں اجازت دے دو۔ چنانچہ اجازت دے دی گئی۔ انہوں نے آ کر عرض کیا: یا نبی اللہ! آج آپ نے صدقہ کا حکم فرمایا تھا اور میرے پاس بھی کچھ زیور ہے جسے میں صدقہ کرنا چاہتی تھی۔ لیکن (میرے خاوند) حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ خیال فرماتے ہیں کہ وہ اور ان کے بچے اس کے ان (مسکینوں) سے زیادہ مستحق ہیں جن پر میں صدقہ کروں گی۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر ارشاد فرمایا: حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحیح فرمایا۔ تمہارے شوہر اور تمہارے بچے اس صدقہ کے ان سے زیادہ مستحق ہیں جنہیں تم صدقہ کے طور پر دو گی (معلوم ہوا کہ اقارب اگر محتاج ہوں تو صدقہ کے اولین مستحق وہی ہیں)۔
It is narrated by Hadrat Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be well pleased with him) that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) went out to the prayer ground on Eid al-Adha or Eid al-Fitr. After the prayer, he delivered a sermon to the people and enjoined them to give charity. He stated, 'O people! Give charity.' Then he went towards the women and stated, 'O women! Give charity, for I have seen that the majority of the dwellers of Hell-fire are you women.' They submitted, 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Why is that?' He stated, 'You curse frequently and are ungrateful to your husbands. I have not seen anyone more deficient in intellect and religion who can overpower even a resolute, experienced man than one of you, O women!' Then he returned, and when he reached his home, Hadrat Zainab (may Allah be well pleased with her), the wife of Hadrat Ibn Mas'ud (may Allah be well pleased with him), came seeking permission to enter. It was said to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), 'It is Hadrat Zainab.' He inquired, 'Which Hadrat Zainab?' (since there were many women by that name). It was said, 'The wife of Hadrat Ibn Mas'ud.' He stated, 'Very well, grant her permission.' She was admitted and submitted, 'O the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) of Allah! Today you enjoined charity, and I had some jewelry that I wanted to give in charity, but Hadrat Ibn Mas'ud considers that he and his children are more deserving of it than those to whom I would give charity.' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, Hadrat 'Ibn Mas'ud spoke correctly. Your husband and your children are more deserving of your charity than others.' (This shows that if one's relatives are in need, they are the first to deserve one's charity.)
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں محمد بن جعفر نے خبر دی، کہا کہ مجھے زید بن اسلم نے خبر دی، انہیں عیاض بن عبداللہ نے، اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم عیدالاضحی یا عیدالفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے۔ پھر (نماز کے بعد) لوگوں کو وعظ فرمایا اور صدقہ کا حکم دیا۔ ارشاد فرمایا: لوگو! صدقہ دو۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم خواتین کی طرف تشریف لے گئے اور ان سے بھی یہی ارشاد فرمایا: اے عورتو! صدقہ دو، کیونکہ میں نے جہنم میں بکثرت تم ہی کو دیکھا ہے۔ عورتوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسا کیوں ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس لیے کہ تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو اور اپنے شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ میں نے تم سے زیادہ عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص ایسی کوئی مخلوق نہیں دیکھی جو کار آزمودہ مرد کی عقل کو بھی اپنی مٹھی میں لے لیتی ہو۔ ہاں اے عورتو! پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لائے اور جب گھر پہنچے تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا آئیں اور حاضری کی اجازت چاہی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ یہ زینب تشریف لائی ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کون سی زینب؟ (کیونکہ زینب نام کی بہت سی خواتین تھیں) عرض کیا گیا: حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اچھا، انہیں اجازت دے دو۔ چنانچہ اجازت دے دی گئی۔ انہوں نے آ کر عرض کیا: یا نبی اللہ! آج آپ نے صدقہ کا حکم فرمایا تھا اور میرے پاس بھی کچھ زیور ہے جسے میں صدقہ کرنا چاہتی تھی۔ لیکن (میرے خاوند) حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ خیال فرماتے ہیں کہ وہ اور ان کے بچے اس کے ان (مسکینوں) سے زیادہ مستحق ہیں جن پر میں صدقہ کروں گی۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر ارشاد فرمایا: حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحیح فرمایا۔ تمہارے شوہر اور تمہارے بچے اس صدقہ کے ان سے زیادہ مستحق ہیں جنہیں تم صدقہ کے طور پر دو گی (معلوم ہوا کہ اقارب اگر محتاج ہوں تو صدقہ کے اولین مستحق وہی ہیں)۔