عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ قَالَ اطَّلَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى أَهْلِ الْقَلِيبِ فَقَالَ " وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ". فَقِيلَ لَهُ تَدْعُو أَمْوَاتًا فَقَالَ " مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لاَ يُجِيبُونَ ".
انگریزی ترجمہ
Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them) narrated that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) looked down at the people of the well (in which the slain polytheists of Badr had been thrown) and stated, 'Have you found what your Lord promised you to be true?' It was submitted, 'Are you addressing the dead?' He stated, 'You do not hear any better than they do, except that they cannot respond.'
اردو ترجمہ
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا صالح سے، ان سے نافع نے بیان کیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے انہیں خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم (بدر کے) کنویں والوں کی طرف جھانکے — جس میں بدر کے مشرک مقتولین ڈالے گئے تھے — اور ارشاد فرمایا: کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا؟ لوگوں نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) آپ مردوں سے مخاطب ہو رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو، البتہ وہ جواب دینے سے قاصر ہیں۔
