عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَاجَةٍ لَهُ فَانْطَلَقْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ وَقَدْ قَضَيْتُهَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ، فَوَقَعَ فِي قَلْبِي مَا اللَّهُ أَعْلَمُ بِهِ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَدَ عَلَىَّ أَنِّي أَبْطَأْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ، فَوَقَعَ فِي قَلْبِي أَشَدُّ مِنَ الْمَرَّةِ الأُولَى، ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَىَّ فَقَالَ " إِنَّمَا مَنَعَنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي ". وَكَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مُتَوَجِّهًا إِلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ.
انگریزی ترجمہ
Narrated by Hadrat Jabir bin Hadrat 'Abdullah (may Allah be well pleased with them both): The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) sent me on an errand (during the expedition of Banu Mustaliq). I went and completed it, then came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and greeted him, but he did not return my greeting. My heart was filled with anxiety that only Allah knows about, and I thought to myself, 'Perhaps the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) is displeased with me because I was delayed.' I greeted him a second time but he still did not reply, and I felt even more distressed than the first time. Then I greeted him a third time and he returned my greeting, saying, 'The only thing that prevented me from returning your greeting was that I was praying.' At that time he was on his riding animal, and it was facing a direction other than the Qibla.
اردو ترجمہ
ہم سے ابو معمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے کثیر بن شنظیر نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے اور ان سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنے ایک کام سے (غزوۂ بنی مصطلق میں) بھیجا۔ میں گیا اور کام پورا کر کے واپس آیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا لیکن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جواب نہیں دیا۔ میرے دل میں اللہ جانے کیا گزری اور میں نے دل میں سوچا کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے اس لیے ناراض ہیں کہ میں نے دیر لگا دی۔ میں نے دوبارہ سلام عرض کیا لیکن اس بار بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جواب نہیں دیا، تو میرے دل میں پہلے سے بھی زیادہ غم ہوا۔ پھر تیسری بار سلام عرض کیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جواب مرحمت فرمایا اور ارشاد فرمایا: پہلے دو بار مجھے جو جواب دینے سے رکاوٹ ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس وقت اپنی سواری پر تشریف فرما تھے اور اس کا رخ قبلے کی طرف نہ تھا بلکہ دوسری سمت تھا۔
