عربی (اصل)
568/735 عن جابر بن عبد الله قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأتى على قبرين يعذب صاحباهما، فقال:"إنهما لا يعذبان في كبير؛ وبلى، أما أحدهما: فكان يغتاب الناس، وأما الآخر: فكان لا يتأذى من البول". فدعا بجريدة رطبة، أو بجريدتين، فكسرهما، ثم أمر بكل كسرة فغرست على قبر، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" أما إنه سيهوّن من عذابهما، ما كانتا رطبتين، أو: لم تيبسا".
انگریزی ترجمہ
Jabir ibn Abdullah reported: We were with the Messenger of Allah (peace be upon him), and he passed by two graves whose occupants were being punished. He said: 'They are not being punished for a major sin — and yet it is major. One of them used to backbite people, and the other did not guard himself from urine.' He asked for a fresh palm branch, or two branches, and broke them, then ordered each piece to be planted on a grave. The Messenger of Allah (peace be upon him) said: 'Their punishment will be lightened as long as these remain moist — or until they dry up.'
اردو ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ تھے کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمدو ایسی قبروں پر آئے جن قبر والوں پر عذاب کیا جا رہا تھا۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ان دونوں کو کسی بڑے گناہ پر عذاب نہیں کیا جا رہا، اور کیوں نہیں، ان میں سے جو ایک ہے وہ لوگوں کی غیبت کرتا تھا اور جو دوسرا ہے وہ پیشاب کی (چھینٹوں کی) پرواہ نہیں کرتا تھا۔“پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے کھجور کی تر شاخ منگوائی یا دو شاخیں، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے انہیں توڑ دیا، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ہر ایک شاخ کے بارے میں حکم دیا کہ اس کو ایک ایک قبر پر گاڑھ دیا جائے۔ تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا:”سن لو ان پر عذاب ہلکا کر دیا جائے گا جب تک یہ تر رہیں گی“یا فرمایا:”جب تک خشک نہ ہوں گی۔“[صحيح الادب المفرد/حدیث: 568]
