عربی (اصل)
488/625 عن صفوان بن عبد الله بن صفوان- وكانت تحته الدرداء بنت أبي الدرداء- قال: قدمت عليهم الشام، فوجدت أم الدرداء في البيت، ولم أجد أبا الدرداء. قالت: أتريد الحج العام؟ قلت: نعم. قالت: فادع الله لنا بخير؛ فإن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول:"إن دعوة المرء المسلم مستجابة لأخيه بظهر الغيب، عند رأسه ملك موكل، كلما دعا لأخيه بخير، قال: آمين، ولك بمثل". قال: فلقيت أبا الدرداء في السوق، فقال مثل ذلك، يأثر عن النبي صلى الله عليه وسلم.
انگریزی ترجمہ
Abu Dharr reported: The Messenger of Allah, peace be upon him, said, 'There is no person who has gold or silver and does not pay its due right except that on the Day of Resurrection, plates of fire will be hammered out for him and heated in the Fire of Hell, and his sides, forehead, and back will be branded with them.'
اردو ترجمہ
صفوان بن عبداللہ بن صفوان سے مروی ہے۔ ان کے نکاح میں درداء بنت ابودرداء تھیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں (ایک بار) شام میں ان (ابودرداء) کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ گھر میں ام درداء ہیں اور ابودرداء نہیں ہیں، ام درداء نے مجھ سے پوچھا: کیا اس سال تمہارا حج کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، تو کہنے لگیں: ہمارے لیے دعائے خیر کرنا، نبیصلی اللہ علیہ وسلمفرمایا کرتے تھے:”کسی مسلمان آدمی کی دوسرے مسلمان کے لیے پیٹھ پیچھے دعا کرنا قبول ہوتی ہے، اس کے سر پر ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے، جب یہ اپنے بھائی کے لیے خیر کی دعا کرتا ہے وہ کہتا ہے: آمین اور تجھے بھی اس کے برابر دے۔“صفوان نے بیان کیا کہ اس کے بعد بازار میں میری ملاقات ابودرداء سے ہوئی تو انہوں نے بھی ایسے ہی بیان کیا۔ وہ (اس حدیث کو) نبیصلی اللہ علیہ وسلمسے نقل کرتے تھے۔[صحيح الادب المفرد/حدیث: 488]
