عربی (اصل)
232/303(صحيح الإسناد)عن أنس قال:" كان النبي صلى الله عليه وسلم أحسن الناس، وأجود الناس، وأشجع الناس، ولقد فزع أهل المدينة ذات ليلة، فانطلق الناس قبل الصوت، فاستقبلهم النبي صلى الله عليه وسلم قد سبق الناس إلى الصوت وهو يقول:"لن تراعوا. لن تراعوا"(2)وهو على فرس لأبي طلحة عُري، ما عليه سرج، وفي عنقه السيف، فقال:" لقد وجدته بحراً، أو إنه لبحر".
انگریزی ترجمہ
Anas reported: 'The Prophet, peace be upon him, was the most handsome of people, the most generous, and the most courageous. One night, the people of Madinah were frightened and went toward the sound. The Prophet, peace be upon him, met them coming back from where the sound was, having preceded them to it, saying, "Do not be afraid, do not be afraid." He was riding a horse belonging to Abu Talhah, bareback without a saddle, with a sword hanging from his neck. He said, "I found it to be a sea" — or "indeed it is like a sea" — meaning it was swift.'
اردو ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ نبیصلی اللہ علیہ وسلمسب لوگوں سے زیادہ حسین، سب سے بڑھ کر سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات مدینہ والے خوفزدہ ہو گئے تو لوگ (جدھر سے شور بلند ہوا اس) آواز کی طرف چلے، نبیصلی اللہ علیہ وسلمان کے سامنے سے آ رہے تھے وہ آواز کی طرف سبقت لے گئے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمفرماتے جاتے تھے:”گھبراؤ نہیں، گھبراؤ نہیں۔“آپصلی اللہ علیہ وسلماس وقت ابوطلحہ کے گھوڑے پر بغیر زین ہی کھلی پیٹھ پر سوار تھے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمکی گردن میں تلوار لٹک رہی تھی۔ تو فرمایا:”میں نے اس کو سمندر پایا، یا کہا کہ بیشک یہ سمندر کی طرح ہے (یعنی برق رفتار ہے)۔“[صحيح الادب المفرد/حدیث: 232]
