عربی (اصل)
223/291(صحيح)عن أسامة بن شريك قال: كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم وجاءت الأعراب؛ ناس كثيرٌ من هاهنا وهاهنا، فسكت الناس لا يتكلمون غيرهم، فقالوا: يا رسول الله! أعلينا حرجٌ في كذا وكذا؟ في أشياء من أمور الناس، لا بأس بها. فقال:" يا عباد الله! وضع الله الحرج، إلا امْرَءاً اقترضَ امْرَءاً ظلماً(1)فذاك الذي حرج وهلك". قالوا: يا رسول الله! أنتداوَى؟ قال:" نعم يا عباد الله تداوَوْا؛ فإن الله عز وجل لم يضع داءً إلا وضع له شفاءً؛ غير داء واحدٍ". قالوا: وما هي يا رسول الله؟ قال:" الهَرَم". قالوا: يا رسول الله! ما خير ما أُعطِي الإنسان؟ قال:" خلق حسنٌ".
انگریزی ترجمہ
Usamah ibn Sharik reported: I was with the Prophet, peace be upon him, when bedouins came — many people from here and there. The people fell silent, and none spoke except them. They said, 'O Messenger of Allah, is there any sin in such-and-such?' — asking about matters of daily life that were harmless. He said, 'O servants of Allah, Allah has removed hardship — except for the person who slanders another unjustly; he is the one who is in hardship and is ruined.' They said, 'O Messenger of Allah, should we seek medical treatment?' He said, 'Yes, O servants of Allah, seek treatment. For Allah, Mighty and Majestic, has not placed a disease without placing a cure for it — except for one disease.' They asked, 'What is it, O Messenger of Allah?' He said, 'Old age.' They said, 'O Messenger of Allah, what is the best thing a person can be given?' He said, 'Good character.'
اردو ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں میں نبیصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس تھا کہ بہت سے دیہاتی ادھر سے اور ادھر سے آپصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں آئے۔ تو سب لوگ چپ ہو گئے، صرف وہی لوگ باتیں کرنے لگے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ایسا کرنے میں حرج ہے، ویسا کرنے میں حرج ہے۔ انہوں نے لوگوں کے معاملات میں سے کچھ امور کے متعلق سوال کیا جس میں کوئی حرج نہیں تھا۔ اس پر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اے اللہ کے بندو! اللہ نے سب حرج ختم کر دیے ہیں سوائے اس آدمی کے جو اپنے بھائی کو ظلم سے کاٹتا ہے یعنی اس کی غیبت کرتا ہے۔ یہ ہے وہ شخص جو تنگی میں پڑ گیا اور ہلاک ہو گیا۔“انہوں نے پوچھا: یا رسول! کیا ہم علاج کر سکتے ہیں؟ فرمایا:”ہاں، اے اللہ کے بندو! علاج کرواؤ، اللہ عزوجل نے سوائے ایک بیماری کے کوئی بیماری ایسی نہیں اتاری جس کی دوا نہ رکھی ہو“، انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اور وہ کیا ہے؟ فرمایا:”بڑھاپا۔“لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انسان کو سب سے بہتر کیا چیز عطا ء ہوئی ہے۔ فرمایا:”اچھے اخلاق۔“[صحيح الادب المفرد/حدیث: 223]
