عربی (اصل)
19/25(صحيح)عن أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: أَتَتْنِي أُمِّي رَاغِبَةً، فِي عَهْدِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أصِلُها؟ قَالَ:"نَعَمْ". قَالَ: ابْنُ عُيَيْنَةَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا: {لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدين}[الممتحنة: 8].
انگریزی ترجمہ
Abdullah ibn Amr reported: The Prophet, peace be upon him, said: 'The one who maintains ties of kinship is not the one who reciprocates. Rather, the one who maintains ties of kinship is the one who, when his relatives cut him off, he maintains ties with them.'
اردو ترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ نبیصلی اللہ علیہ وسلمکے زمانے میں میرے پاس میری ماں اسلام کی طرف راغب ہو کر آئیں۔ میں نے نبیصلی اللہ علیہ وسلمسے پوچھا: کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ہاں“، ابن عیینہ کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کر دی:«لاَ يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ»”اﷲ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنے سے منع نہیں کرتا جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی ہے۔“[صحيح الادب المفرد/حدیث: 19]
