عربی (اصل)
150/203 عن أبي موسى قال: قال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم:" ثلاثة لهم أجران: رجل من أهل الكتاب آمن بنبيه، وآمن بمحمد صلى الله عليه وسلم فله أجران. والعبد المملوك إذا أدى حق الله، وحق مواليه،[وفي رواية: حق مليكه الذي يملكه/205]. ورجل كانت عنده أمة يطأها، فأدبها فأحسن تأديبها، وعلمها فأحسن تعليمها، ثم أعتقها فتزوجها، فله أجران". قال: عامر أعطيناكها بغير شيء، وقد كان يركب فيما دونها إلى المدينة.
انگریزی ترجمہ
Abu Musa reported: The Messenger of Allah, peace be upon him, said to them: 'Three will have a double reward: A man from the People of the Book who believed in his own prophet and believed in Muhammad, peace be upon him — he will have a double reward. A slave who fulfills the rights of Allah and the rights of his masters — and in one narration: the right of his owner who possesses him. And a man who had a slave woman whom he used to have relations with; he educated her and educated her well, taught her and taught her well, then freed her and married her — he will have a double reward.' Amir said: 'We have given you this hadith for free, although people used to travel to Madinah for less than it.'
اردو ترجمہ
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ان سے فرمایا:”تین قسم کے لوگوں کا دہرا اجر ہے: اہل کتاب کا وہ آدمی جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور محمدصلی اللہ علیہ وسلمپر بھی ایمان لایا اس کے لیے دو اجر ہیں اور وہ زرخرید غلام جس نے اللہ کا حق اد اکیا اور اپنے آقاؤ ں کا (اور ایک روایت میں ہے: اپنے بادشاہ کا حق ادا کیا جو اس کا مالک ہے)۔ اور ایک آدمی کے پاس لونڈی تھی جس سے وہ وظیفہ زوجیت ادا کرتا تھا اس نے اس کو تادیب سکھائی اور اچھی تادیب سکھائی اور اس کو تعلیم“دی تو اچھی تعلیم دی۔ پھر اس کو آزاد کر کے اس سے شادی کر لی تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔“عامر نے کہا: ہم نے یہ حدیث آپ کو مفت دے دی یعنی بغیر کسی چیز کے بدلے میں جبکہ اس سے کم درجے کی حدیث کے لیے مدینہ تک کا سفر کرنا پڑتا تھا۔[صحيح الادب المفرد/حدیث: 150]
