عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الصَّامِتِ قَالَ: سَأَلْتُ خَلِيلِي أَبَا ذَرٍّ، فَقَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِوَضُوءٍ، فَحَرَّكَ رَأْسَهُ، وَعَضَّ عَلَى شَفَتَيْهِ، قُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي آذَيْتُكَ؟ قَالَ: لاَ، وَلَكِنَّكَ تُدْرِكُ أُمَرَاءَ أَوْ أَئِمَّةً يُؤَخِّرُونَ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا، قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: صَلِّ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتَ مَعَهُمْ فَصَلِّهِ، وَلاَ تَقُولَنَّ: صَلَّيْتُ، فَلاَ أُصَلِّي.
انگریزی ترجمہ
'Abdullah ibn as-Samit said, "I questioned my close friend Abu Dharr who said, 'I brought some water for wudu' to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) . He shook his head and bit his lip. I said, "May my father and mother be your ransom, have I injured you?" "No," he replied, "but you will meet amirs ? or imams ? who will delay the prayer until it is past its time." "So what do you command me to do?" I asked. He replied, "Pray the prayer at the proper time. If you come across them, then pray with them and do not say, 'I have already prayed, so I will not pray again.'"'"
اردو ترجمہ
عبد اللہ بن صامت فرماتے ہیں: میں نے اپنے قریبی دوست حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا۔ انہوں نے فرمایا: میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لیے وضو کا پانی لایا۔ آپ نے سر ہلایا اور ہونٹ دبائے۔ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! کیا میں نے آپ کو تکلیف دی؟ آپ نے ارشاد فرمایا: نہیں، لیکن تم میری اُمت سے ملو گے جو میرے بعد ہوں گے۔ وہ نمازوں کو مؤخر کریں گے۔ انہوں نے پوچھا: اے حضرت ابو ذر! آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: وقت پر نماز پڑھو، اگر تم نماز پڑھ چکے ہو اور پھر نماز کھڑی ہو جائے تو پھر سے پڑھ لو، وہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔
