عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ: قَالَ أَبِي: انْطَلَقْتُ فِي وَفْدِ بَنِي عَامِرٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَقَالُوا: أَنْتَ سَيِّدُنَا، قَالَ: السَّيِّدُ اللَّهُ، قَالُوا: وَأَفْضَلُنَا فَضْلاً، وَأَعْظَمُنَا طَوْلاً، قَالَ: فَقَالَ: قُولُوا بِقَوْلِكُمْ، وَلاَ يَسْتَجْرِيَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ.
انگریزی ترجمہ
Hadrat Mutarrif reported that his father said, "I went in the delegation of the Banu 'Amir to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) . They said, 'You are our master.' He said, 'The Master is Allah.' They said, 'The best of us in excellence and the greatest of us in generosity.' He said, 'Say what you like, but do not let Shaytan provoke you.'"
اردو ترجمہ
حضرت مطرف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: میں بنی عامر کا وفد لے کر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے عرض کیا: آپ ہمارے سردار ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سردار اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔ انہوں نے کہا: آپ ہم میں سب سے بڑے فضیلت والے اور سب سے بڑے عظمت والے ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اپنی بات کہو یا کچھ اپنی بات کہو لیکن شیطان تمہاری زبان نہ بنے۔
