عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مَطَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِسْطَامٌ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ قَالَ: قَالَ لِي أَبِي: يَا بُنَيَّ، إِذَا مَرَّ بِكَ الرَّجُلُ فَقَالَ: السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ، فَلاَ تَقُلْ: وَعَلَيْكَ، كَأَنَّكَ تَخُصُّهُ بِذَلِكَ وَحْدَهُ، فَإِنَّهُ لَيْسَ وَحْدَهُ، وَلَكِنْ قُلِ: السَّلامُ عَلَيْكُمْ.
انگریزی ترجمہ
Mu'awiya ibn Qurra said that his father said to him, "My son, when a man passes by you and says, 'Peace be upon you (plural).' Do not say, 'And on you (singular)' as if you were singling out that greeting out for him alone. Rather say, 'Peace be upon you (plural).'"
اردو ترجمہ
حضرت معاویہ بن قُرّہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد نے فرمایا: بیٹے! جب کوئی شخص تمہارے پاس سے گزرے اور کہے 'السلام علیکم' (جمع میں) تو تم 'و علیک' (واحد میں) مت کہو گویا تم صرف اسی کو الگ سے سلام کا جواب دے رہے ہو بلکہ 'و علیکم السلام' کہو تاکہ جواب میں اس کا بھی حصہ ہو اور فرشتوں کا بھی۔
