عربی (اصل)
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، قَالَ كُنَّا نَقُولُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْعَمَ اللَّهُ بِكَ عَيْنًا وَأَنْعِمْ صَبَاحًا فَلَمَّا كَانَ الإِسْلاَمُ نُهِينَا عَنْ ذَلِكَ . قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ مَعْمَرٌ يُكْرَهُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ أَنْعَمَ اللَّهُ بِكَ عَيْنًا وَلاَ بَأْسَ أَنْ يَقُولَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَيْنَكَ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat 'Imran ibn Husayn (may Allah be well pleased with him) narrates: In the days of Jahiliyyah (pre-Islamic ignorance), we used to say: 'May Allah make your eye delighted' and 'Good morning to you.' When Islam came, we were forbidden from that. 'Abd al-Razzaq reports that Ma'mar said: It is disliked for a man to say 'An'am Allahu bika 'aynan' (may Allah delight your eye through you), but there is no harm in saying 'An'am Allahu 'aynaka' (may Allah grant your eye delight).
اردو ترجمہ
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم زمانہ جاہلیت میں کہا کرتے تھے: 'اللہ تمہاری آنکھ ٹھنڈی کرے' اور 'تمہاری صبح اچھی ہو'۔ جب اسلام آیا تو ہمیں اس سے منع کر دیا گیا۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ معمر نے فرمایا: یہ مکروہ ہے کہ آدمی کہے 'أَنْعَمَ اللَّهُ بِكَ عَيْنًا' (اللہ تمہاری آنکھ کو ٹھنڈا کرے)، لیکن اس میں کوئی حرج نہیں کہ وہ کہے 'أَنْعَمَ اللَّهُ عَيْنَكَ' (اللہ تمہاری آنکھ کو نعمت دے)۔
