عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا جَالِسٌ هَكَذَا وَقَدْ وَضَعْتُ يَدِيَ الْيُسْرَى خَلْفَ ظَهْرِي وَاتَّكَأْتُ عَلَى أَلْيَةِ يَدِي فَقَالَ " أَتَقْعُدُ قِعْدَةَ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ " .
انگریزی ترجمہ
Hadrat al-Sharid ibn Suwayd (may Allah be well pleased with him) narrates: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) had me ride behind him and stated: Do you have any (poetry) of Umayyah ibn Abi al-Salt memorised? I submitted: Yes. He stated: Recite. So I recited one verse, and he stated: Recite more. I recited another verse, and he stated: Recite more — until I recited a hundred verses for him. He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: He was close to accepting Islam (through his poetry).
اردو ترجمہ
حضرت شرید بن سوید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے میرے پیچھے سواری پر بٹھایا اور ارشاد فرمایا: کیا تمہیں امیۃ بن ابی الصلت کا کچھ (کلام) یاد ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: سناؤ۔ میں نے ایک شعر سنایا، آپ نے فرمایا: سناؤ۔ میں نے ایک اور شعر سنایا، آپ نے فرمایا: سناؤ۔ یہاں تک کہ میں نے آپ کو سو اشعار سنائے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قریب تھا کہ وہ (اپنے کلام میں) اسلام لے آتا۔
