عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه قَالَ فَجَرَتْ جَارِيَةٌ لآلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " يَا عَلِيُّ انْطَلِقْ فَأَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ " . فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا بِهَا دَمٌ يَسِيلُ لَمْ يَنْقَطِعْ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ " يَا عَلِيُّ أَفَرَغْتَ " . قُلْتُ أَتَيْتُهَا وَدَمُهَا يَسِيلُ . فَقَالَ " دَعْهَا حَتَّى يَنْقَطِعَ دَمُهَا ثُمَّ أَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ وَأَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى فَقَالَ فِيهِ " لاَ تَضْرِبْهَا حَتَّى تَضَعَ " . وَالأَوَّلُ أَصَحُّ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Ali ibn AbuTalib that a slave-girl belonging to the house of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) committed fornication. He (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) said: Rush up, Hadrat Ali, and inflict the prescribed punishment on her. I then hurried up, and saw that blood was flowing from her, and did not stop. So I came to him and he said: Have you finished inflicting (punishment on her)? I said: I went to her while her blood was flowing. He said: Leave her alone till her bleeding stops; then inflict the prescribed punishment on her. And inflict the prescribed punishment on those whom your right hands possess (i.e. slaves). Abu Dawud said: A similar tradition has been transmitted by Abu al-Ahwas from 'Abd al-A'la, and also by Shu'bah from 'Abd al-A'la. This version has: He said: Do not give her beating until she gives birth to a child. But the former (version) is sounder
اردو ترجمہ
حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت میں سے کسی کی لونڈی نے حرام کاری کر لی تو آپ نے ارشاد فرمایا: علی! جاؤ اور اس پر حد قائم کرو میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کا خون بہے چلا جا رہا ہے، رکتا ہی نہیں، یہ دیکھ کر میں آپ کے پاس واپس آ گیا، تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: علی! کیا حد لگا کر آ گئے ؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس کے پاس آیا دیکھا تو اس کا خون بہ رہا ہے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اچھا بند ہونے تک رکے رہو، جب بند ہو جائے تو اسے ضرور حد لگاؤ، اور حدوں کو اپنے غلاموں اور لونڈیوں پر بھی قائم کیا کرو ۔ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: اسی طرح حضرت ابوالاحوص نے عبدالاعلیٰ سے روایت کیا ہے، اور اسے شعبہ نے بھی عبدالاعلی سے روایت کیا ہے، اس میں ہے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے حد نہ لگانا جب تک وہ بچہ جن نہ دے لیکن پہلی روایت زیادہ صحیح ہے۔
