عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنِ اللَّيْثِ، قَالَ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ كَانَ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ أَنَّ عَائِشَةَ رضى الله عنها قَالَتِ اسْتَعَارَتِ امْرَأَةٌ - تَعْنِي - حُلِيًّا عَلَى أَلْسِنَةِ أُنَاسٍ يُعْرَفُونَ وَلاَ تُعْرَفُ هِيَ فَبَاعَتْهُ فَأُخِذَتْ فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِقَطْعِ يَدِهَا وَهِيَ الَّتِي شَفَعَ فِيهَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَقَالَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا قَالَ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Aisha, Ummul Mu'minin that a woman borrowed jewellery through some known persons and she herself was unknown. She then sold them. She was seized and brought to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). He gave orders that her hand should be cut off. It is this woman about whom Hadrat Usamah interceded and of her the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated whatever he said
اردو ترجمہ
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ عروہ بیان کرتے تھے کہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا ہے کہ ایک عورت نے جسے کوئی نہیں جانتا تھا چند معروف لوگوں کی شہادت اور ذمہ داری پر ایک زیور منگنی لی اور اسے بیچ کر کھا گئی تو اسے پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، یہ وہی عورت ہے جس کے سلسلہ میں اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے سفارش کی تھی، اور اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو جو فرمانا تھا فرمایا تھا۔
