عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ، مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِلِصٍّ قَدِ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ " . قَالَ بَلَى . فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ وَجِيءَ بِهِ فَقَالَ " اسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ " . فَقَالَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فَقَالَ " اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ " . ثَلاَثًا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat AbuUmayyah al-Makhzumi that a thief who had accepted (having committed theft) was brought to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), but no good were found with him. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), said to him: I do not think you have stolen. He said: Yes, I have. He repeated it twice or thrice. So he gave orders. His hand was cut off and he was then brought to him. He said: Ask Allah's pardon and turn to Him in repentance. He said: I ask Allah's pardon and turn to Him in repentance. He (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) then said: O Allah, accept his repentance. Abu Dawud said: It has been transmitted by 'Amr b. Asim, from Hammam, from Ishaq (upon him be peace) b. 'Abd Allah from Abu Ummayyah, a man of the Ansar from the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)
اردو ترجمہ
حضرت ابوامیہ مخزومی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے چوری کا اعتراف کر لیا تھا، لیکن اس کے پاس کوئی سامان نہیں پایا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: میں نہیں سمجھتا کہ تم نے چوری کی ہے اس نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور چرایا ہے، اسی طرح اس نے آپ سے دو یا تین بار دہرایا، پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر حد جاری کرنے کا حکم فرمایا، تو اس کا ہاتھ کاٹ لیا گیا، اور اسے لایا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: اللہ سے مغفرت طلب کرو، اور اس سے توبہ کرو اس نے عرض کیا: میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، اور اس سے توبہ کرتا ہوں، تو آپ نے تین بار فرمایا: اے اللہ اس کی توبہ قبول فرما ۔ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: عمرو بن عاصم نے اسے ہمام سے، ہمام نے اسحاق بن عبداللہ سے، اسحاق نے حضرت ابوامیہ انصاری سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی ہے۔
