عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ لَمَّا فَتَحَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ جَعَلَ أَهْلُ مَكَّةَ يَأْتُونَهُ بِصِبْيَانِهِمْ فَيَدْعُو لَهُمْ بِالْبَرَكَةِ وَيَمْسَحُ رُءُوسَهُمْ قَالَ فَجِيءَ بِي إِلَيْهِ وَأَنَا مُخَلَّقٌ فَلَمْ يَمَسَّنِي مِنْ أَجْلِ الْخَلُوقِ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat al-Walid ibn Uqbah narrates that when the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) conquered the blessed city of Makkah, the people of Makkah began bringing their children to his court. He (blessings and peace of Allah be upon him) would pray for blessings upon them and rub their heads with his blessed hand. He (al-Walid) said: I too was brought to his noble presence, but I had khaluq (a saffron-based perfume) applied on me, so he (blessings and peace of Allah be upon him) did not touch me on account of the khaluq.
اردو ترجمہ
حضرت ولید بن عقبہ سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ مکرمہ فتح فرمایا تو اہلِ مکہ اپنے بچوں کو لے کر آپ کی بارگاہ میں حاضر ہونے لگے۔ آپ ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے اور ان کے سروں پر دست مبارک پھیرتے۔ (ولید) فرماتے ہیں: مجھے بھی آپ کی خدمت میں لایا گیا لیکن مجھے خلوق (زعفرانی خوشبو) لگی ہوئی تھی تو آپ نے خلوق کی وجہ سے مجھے ہاتھ نہیں لگایا۔
