عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، هُوَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ خَلْدَةَ، قَالَ أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي صَاحِبٍ لَنَا أَفْلَسَ فَقَالَ لأَقْضِيَنَّ فِيكُمْ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَفْلَسَ أَوْ مَاتَ فَوَجَدَ رَجُلٌ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Umar ibn Khaldah who said: We came to Hadrat Abu Hurayrah (may Allah be well pleased with him) regarding a companion of ours who had become insolvent. Hadrat Abu Hurayrah (may Allah be well pleased with him) said: I shall certainly judge between you according to the judgment of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him): Whoever becomes insolvent or dies, and a man finds his very goods with him, he has the most right to them.
اردو ترجمہ
حضرت عمر بن خلدہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں: ہم اپنے ایک ساتھی کے مفلس ہونے کے معاملے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں تمہارے درمیان ضرور محبوبِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کروں گا: جو شخص مفلس ہو جائے یا فوت ہو جائے اور کوئی شخص اپنا مال بعینہ پائے تو وہ اُس کا سب سے زیادہ حقدار ہے۔
