عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ مَتَاعًا فَأَفْلَسَ الَّذِي ابْتَاعَهُ وَلَمْ يَقْبِضِ الَّذِي بَاعَهُ مِنْ ثَمَنِهِ شَيْئًا فَوَجَدَ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ وَإِنْ مَاتَ الْمُشْتَرِي فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ " .
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Hadrat Abu Bakr ibn Abdur-Rahman ibn al-Harith ibn Hisham that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Whoever sells goods and the buyer becomes insolvent, and the seller has not received anything of the price, then if he finds his goods intact, he has the most right to them. But if the buyer dies, the owner of the goods is equal to the other creditors.
اردو ترجمہ
حضرت ابو بکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام سے مروی ہے کہ محبوبِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے مال بیچا اور خریدار مفلس ہو گیا اور بیچنے والے نے قیمت سے کچھ بھی وصول نہیں کیا تھا، پھر اُس نے اپنا مال بعینہ پایا تو وہ اُس پر سب سے زیادہ حقدار ہے۔ اور اگر خریدار فوت ہو جائے تو مال کا مالک قرض خواہوں کے برابر ہو گا۔
