عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلاَّدٍ أَبُو عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ : لَمَّا وُلِّيَ خَالِدٌ الْقَسْرِيُّ أَضْعَفَ الصَّاعَ فَصَارَ الصَّاعُ سِتَّةَ عَشَرَ رَطْلاً . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلاَّدٍ قَتَلَهُ الزِّنْجُ صَبْرًا، فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَمَدَّ أَبُو دَاوُدَ يَدَهُ وَجَعَلَ بُطُونَ كَفَّيْهِ إِلَى الأَرْضِ، قَالَ : وَرَأَيْتُهُ فِي النَّوْمِ فَقُلْتُ : مَا فَعَلَ اللَّهُ بِكَ قَالَ : أَدْخَلَنِي الْجَنَّةَ . فَقُلْتُ : فَلَمْ يَضُرَّكَ الْوَقْفُ .
انگریزی ترجمہ
Umayyah ibn Khalid narrates: When Khalid al-Qasri was appointed governor, he doubled the sa', so the sa' became sixteen ratls. Abu Dawud (upon him be mercy) said: Muhammad ibn Muhammad ibn Khallad was killed by the Zanj (as a prisoner). He did this with his hand - and Abu Dawud extended his hand with palms facing the ground - He said: I saw him in a dream and asked: What did Allah do with you? He said: He admitted me to Paradise. I said: Then the execution did not harm you.
اردو ترجمہ
حضرت امیہ بن خالد سے روایت ہے، فرماتے ہیں: جب خالد القسری والی بنے تو انہوں نے صاع کو دگنا کر دیا، تو صاع سولہ رطل ہو گیا۔ حضرت ابوداؤد رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: محمد بن محمد بن خلاد کو زنجیوں نے قتل کر دیا تھا (قید میں)۔ انہوں نے اپنا ہاتھ یوں کیا - اور حضرت ابوداؤد نے اپنا ہاتھ پھیلایا اور اپنی ہتھیلیاں زمین کی طرف کیں - فرمایا: میں نے انہیں خواب میں دیکھا اور پوچھا: اللہ نے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا؟ فرمایا: مجھے جنت میں داخل کیا۔ میں نے عرض کیا: تو اس ٹھہراؤ (قتل) سے تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوا۔
