عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، : أَنَّ رَجُلَيْنِ، اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الطَّالِبَ الْبَيِّنَةَ، فَلَمْ تَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ فَاسْتَحْلَفَ الْمَطْلُوبَ فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " بَلَى قَدْ فَعَلْتَ، وَلَكِنْ قَدْ غُفِرَ لَكَ بِإِخْلاَصِ قَوْلِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : يُرَادُ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ لَمْ يَأْمُرْهُ بِالْكَفَّارَةِ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abdullah ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) narrates that two men brought their dispute before the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) asked the plaintiff for evidence, but he had none, so the defendant was asked to swear an oath. He swore by Allah, besides Whom there is no deity. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Indeed you did that (i.e., you lied), but your sincere utterance of La ilaha illallah has been the cause of your forgiveness.' Abu Dawud (upon him be mercy) said: The purpose of this hadith is that he (blessings and peace of Allah be upon him) did not order him to pay expiation.
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ دو شخصوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے جھگڑا کیا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مدعی سے گواہی مانگی، اس کے پاس گواہی نہ تھی تو مدعا علیہ سے قسم لی۔ اس نے اللہ کی قسم کھائی جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہاں، تم نے ایسا کیا (یعنی جھوٹ بولا)، لیکن لا الٰہ الا اللہ کا خلوص سے کہنا تمہاری مغفرت کا سبب بن گیا۔ حضرت ابوداؤد رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اس حدیث سے مقصود یہ ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کفارے کا حکم نہیں دیا۔
