عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رِئَابَ بْنَ حُذَيْفَةَ، تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَوَلَدَتْ لَهُ ثَلاَثَةَ غِلْمَةٍ فَمَاتَتْ أُمُّهُمْ فَوَرِثُوهَا رِبَاعَهَا وَوَلاَءَ مَوَالِيهَا وَكَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَصَبَةَ بَنِيهَا فَأَخْرَجَهُمْ إِلَى الشَّامِ فَمَاتُوا فَقَدِمَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَمَاتَ مَوْلًى لَهَا وَتَرَكَ مَالاً لَهُ فَخَاصَمَهُ إِخْوَتُهَا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا أَحْرَزَ الْوَلَدُ أَوِ الْوَالِدُ فَهُوَ لِعَصَبَتِهِ مَنْ كَانَ " . قَالَ فَكَتَبَ لَهُ كِتَابًا فِيهِ شَهَادَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَرَجُلٍ آخَرَ فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عَبْدُ الْمَلِكِ اخْتَصَمُوا إِلَى هِشَامِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ أَوْ إِلَى إِسْمَاعِيلَ بْنِ هِشَامٍ فَرَفَعَهُمْ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ فَقَالَ هَذَا مِنَ الْقَضَاءِ الَّذِي مَا كُنْتُ أَرَاهُ . قَالَ فَقَضَى لَنَا بِكِتَابِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَنَحْنُ فِيهِ إِلَى السَّاعَةِ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Abdullah ibn Amr (may Allah be well pleased with them both) that Ri'ab ibn Hudhayfah married a woman who bore him three sons. Their mother then died, and the sons inherited her houses and the right of patronage (wala') over her freed slaves. Hadrat Amr ibn al-As (may Allah be well pleased with him) was the agnate of her sons. He sent them to Syria where they died. Hadrat Amr ibn al-As (may Allah be well pleased with him) then came (to Madinah), and a freed slave of hers died leaving behind some property. Her brothers disputed with him before Hadrat Umar ibn al-Khattab (may Allah be well pleased with him). Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) said: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Whatever right of patronage a child or a parent acquires, it goes to his agnates, whoever they may be. Then Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) wrote a document, witnessed by Hadrat Abd al-Rahman ibn Awf, Hadrat Zayd ibn Thabit (may Allah be well pleased with them both), and another man. Later, when Abd al-Malik became Caliph, the parties disputed again and brought the case to Hisham ibn Isma'il (or Isma'il ibn Hisham), who referred it to Abd al-Malik. Abd al-Malik said: This is the very ruling I had seen before. The narrator said: He ruled according to the document of Hadrat Umar ibn al-Khattab (may Allah be well pleased with him), and that patronage remains with us to this day.
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رئاب بن حضرت حذیفہ نے ایک عورت سے نکاح کیا، اس سے تین بیٹے پیدا ہوئے، پھر ان کی ماں فوت ہو گئی۔ وہ بیٹے ماں کے گھروں اور اس کے آزاد کردہ غلاموں کی ولاء کے وارث ہوئے۔ اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان بیٹوں کے عصبہ (وارث) تھے۔ انہوں نے ان بیٹوں کو شام بھیج دیا جہاں وہ فوت ہو گئے۔ پھر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ (مدینہ) آئے اور اس عورت کا ایک آزاد کردہ غلام مر گیا جس نے مال چھوڑا۔ اس عورت کے بھائیوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس مقدمہ لے جا کر جھگڑا کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جو ولاء اولاد یا والد حاصل کرے وہ اس کے عصبوں کو ملے گی خواہ کوئی بھی ہوں۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک فیصلہ نامہ لکھ دیا جس پر حضرت عبدالرحمٰن بن عوف اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور ایک اور شخص کی گواہی تھی۔ پھر جب عبدالملک خلیفہ ہوئے تو ان لوگوں نے پھر جھگڑا کیا اور ہشام بن اسماعیل یا اسماعیل بن ہشام کے پاس مقدمہ لے گئے، انہوں نے عبدالملک کے پاس بھیج دیا۔ عبدالملک نے کہا: یہ وہی فیصلہ ہے جو میں نے پہلے دیکھا تھا۔ راوی کہتے ہیں: عبدالملک نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تحریر کے مطابق فیصلہ دے دیا، اور وہ ولاء اب تک ہمارے پاس ہے۔
