عربی (اصل)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، - فِي آخَرِينَ - قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ بُدَيْلٍ، - يَعْنِي ابْنَ مَيْسَرَةَ - عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ، عَنِ الْمِقْدَامِ الْكِنْدِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَإِلَىَّ وَمَنْ تَرَكَ مَالاً فَلِوَرَثَتِهِ وَأَنَا مَوْلَى مَنْ لاَ مَوْلَى لَهُ أَرِثُ مَالَهُ وَأَفُكُّ عَانَهُ وَالْخَالُ مَوْلَى مَنْ لاَ مَوْلَى لَهُ يَرِثُ مَالَهُ وَيَفُكُّ عَانَهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ الزُّبَيْدِيُّ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ عَائِذٍ عَنِ الْمِقْدَامِ وَرَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ رَاشِدٍ قَالَ سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَقُولُ الضَّيْعَةُ مَعْنَاهُ عِيَالٌ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat al-Miqdam al-Kindi (may Allah be well pleased with him) narrates that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: I am closer to every believer than his own self. Whoever leaves behind a debt or helpless dependants, it is upon me. And whoever leaves behind wealth, it is for his heirs. I am the patron of the one who has no patron; I inherit his property and free his captives. And the maternal uncle is the patron of the one who has no patron; he inherits his property and frees his captives. Abu Dawud (upon him be mercy) said: This tradition has been transmitted by al-Zubaydi from Rashid ibn Sa'd from Ibn A'idh on the authority of al-Miqdam. It has also been transmitted by Hadrat Mu'awiyah ibn Salih from Rashid who said: I heard al-Miqdam (say). Abu Dawud (upon him be mercy) said: Da'iyah means dependants.
اردو ترجمہ
حضرت مقدام کندی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں ہر مومن سے اس کی ذات کی نسبت زیادہ قریب ہوں۔ جو کوئی قرض یا بے سہارا عیال چھوڑ جائے تو وہ میرے ذمے ہے، اور جو مال چھوڑ جائے وہ اس کے وارثوں کا حق ہے۔ اور جس کا کوئی والی نہیں اس کا والی میں ہوں، میں اس کے مال کا وارث ہوں گا اور اس کے قیدیوں کو چھڑاؤں گا۔ اور ماموں اس کا والی ہے جس کا کوئی والی نہیں، وہ اس کے مال کا وارث ہو گا اور اس کے قیدیوں کو چھڑائے گا۔ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: اس روایت کو زبیدی نے راشد بن سعد سے، انہوں نے ابن عائذ سے، اور ابن عائذ نے مقدام سے روایت کیا ہے۔ اور حضرت معاویہ بن صالح نے راشد سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا: میں نے مقدام سے سنا۔ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: «ضيعة» سے مراد عیال ہے۔
