عربی (اصل)
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ - يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو - عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ أُرَاهُ عَنْ جَدِّهِ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ " لاَ يُحِبُّ اللَّهُ الْعُقُوقَ " . كَأَنَّهُ كَرِهَ الاِسْمَ وَقَالَ " مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَنْسُكْ عَنِ الْغُلاَمِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ " . وَسُئِلَ عَنِ الْفَرَعِ قَالَ " وَالْفَرَعُ حَقٌّ وَأَنْ تَتْرُكُوهُ حَتَّى يَكُونَ بَكْرًا شُغْزُبًّا ابْنَ مَخَاضٍ أَوِ ابْنَ لَبُونٍ فَتُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً أَوْ تَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذْبَحَهُ فَيَلْزَقَ لَحْمُهُ بِوَبَرِهِ وَتُكْفِئَ إِنَاءَكَ وَتُوَلِّهَ نَاقَتَكَ " .
انگریزی ترجمہ
It is narrated through Amr ibn Shu'ayb from his father from his grandfather (Hadrat Abdullah ibn Amr, may Allah be well pleased with them both) that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was asked about the Aqiqah. He stated: Allah does not love Uquq (disobedience) — as though he disliked the name itself — and stated: Whoever has a child born to him and wishes to offer a sacrifice (Nusuk) on its behalf, let him sacrifice two comparable sheep for a boy and one sheep for a girl. He was also asked about the Fara'. He stated: The Fara' is a right. But if you leave it until it becomes a strong, healthy young camel — one or two years old — and then give it to a needy widow or use it as a mount in the path of Allah, that is better than slaughtering it (while still so small) that its meat clings to its hair (i.e., is scant), and you empty your pot (having nothing to cook), and cause grief to your she-camel by separating her from her young.
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے — عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں — کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے عقیقے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ عقوق (نافرمانی) کو پسند نہیں فرماتا — گویا آپ نے اس نام کو ناپسند فرمایا — اور ارشاد فرمایا: جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے قربانی (نُسُک) کرنا چاہے تو لڑکے کی طرف سے دو برابر کی بکریاں کرے اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔ اور آپ سے فَرَع کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فَرَع حق ہے، اور یہ کہ تم اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ جوان تندرست اونٹ بن جائے، ایک سالہ یا دو سالہ ہو جائے، پھر اسے کسی بیوہ محتاج کو دے دو یا اللہ کی راہ میں (جہاد کے لیے) سواری کے طور پر دے دو، یہ اس سے بہتر ہے کہ تم اسے (ابھی چھوٹا ہی) ذبح کر ڈالو کہ اس کا گوشت اس کے بالوں سے چپکا ہو (یعنی بہت کم ہو) اور تم اپنا برتن اوندھا رکھو (کہ پکانے کو کچھ نہ ہو) اور اپنی اونٹنی کو بچے کی جدائی کا رنج دو۔
