عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ خِرِّيتٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَزَلَتْ { إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ } فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ حِينَ فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَنْ لاَ يَفِرَّ وَاحِدٌ مِنْ عَشَرَةٍ ثُمَّ إِنَّهُ جَاءَ تَخْفِيفٌ فَقَالَ { الآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ } قَرَأَ أَبُو تَوْبَةَ إِلَى قَوْلِهِ { يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ } قَالَ فَلَمَّا خَفَّفَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ مِنَ الْعِدَّةِ نَقَصَ مِنَ الصَّبْرِ بِقَدْرِ مَا خَفَّفَ عَنْهُمْ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) narrated: The verse was revealed: {If there are twenty steadfast among you, they shall overcome two hundred}. This was difficult for the Muslims when Allah the Exalted made it obligatory upon them that one must not flee from ten. Then relief was revealed: {Now Allah has lightened your burden}. Abu Tawbah recited up to {they shall overcome two hundred}. He said: When Allah the Exalted reduced the number for them, steadfastness decreased in proportion to what was lightened for them.
اردو ترجمہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان فرماتے ہیں: (آیت) نازل ہوئی: {اگر تم میں سے بیس صبر کرنے والے ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے}۔ یہ مسلمانوں پر بھاری گزرا جب اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض کیا کہ ایک آدمی دس سے نہ بھاگے۔ پھر تخفیف نازل ہوئی: {اب اللہ نے تم سے ہلکا کر دیا}۔ ابو توبہ نے {دو سو پر غالب آئیں گے} تک پڑھا۔ فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے تعداد میں ان سے تخفیف فرمائی تو جتنی تخفیف فرمائی اتنا ہی صبر بھی کم ہو گیا۔
