عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي خَلَفٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، - قَالَ ابْنُ السَّرْحِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللَّهِ " . فَجَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ذَئِرْنَ النِّسَاءُ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ . فَرَخَّصَ فِي ضَرْبِهِنَّ فَأَطَافَ بِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَقَدْ طَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ لَيْسَ أُولَئِكَ بِخِيَارِكُمْ " .
انگریزی ترجمہ
Ahmad ibn Abi Khalaf and Ahmad ibn 'Amr ibn al-Sarh narrated to us, both said: Sufyan narrated to us from al-Zuhri, from Abdullah ibn Abdullah — Ibn al-Sarh said: 'Ubayd Allah ibn Abdullah — from Hadrat Iyas ibn Abdullah ibn Abi Dhubab (may Allah be well pleased with him), who said: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Do not strike the bondswomen of Allah.' Then Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and said: The women have become bold against their husbands. So he permitted (light) disciplining. Then many women came to the household of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) complaining about their husbands. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Many women have come to the household of Muhammad complaining about their husbands. Those (who strike their wives) are not the best among you.'
اردو ترجمہ
ہم سے احمد بن ابی خلف اور احمد بن عمرو بن السرح نے بیان کیا، دونوں نے کہا ہم سے سفیان نے زہری سے، انہوں نے عبد اللہ بن عبد اللہ سے (ابن السرح نے کہا: عبید اللہ بن عبد اللہ سے)، انہوں نے حضرت ایاس بن عبد اللہ بن ابی ذباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا، فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اللہ کی بندیوں کو نہ مارو۔" پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: عورتیں اپنے شوہروں پر سرکش ہو گئی ہیں۔ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے (ہلکی) مار کی اجازت دے دی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے گھر والوں کے پاس بہت سی عورتیں آئیں جو اپنے شوہروں کی شکایت کر رہی تھیں۔ تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "آلِ محمد کے پاس بہت سی عورتیں آئی ہیں جو اپنے شوہروں کی شکایت کر رہی ہیں، ایسے (مارنے والے) لوگ تم میں سے بہتر نہیں ہیں۔"
