عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ { لاَ يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلاَّ أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ } وَذَلِكَ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ يَرِثُ امْرَأَةَ ذِي قَرَابَتِهِ فَيَعْضُلُهَا حَتَّى تَمُوتَ أَوْ تَرُدَّ إِلَيْهِ صَدَاقَهَا فَأَحْكَمَ اللَّهُ عَنْ ذَلِكَ وَنَهَى عَنْ ذَلِكَ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) said regarding: {It is not lawful for you to inherit women by compulsion, and do not prevent them in order to take part of what you have given them, unless they commit a clear immorality.} This was because a man would inherit the wife of his relative and hold her back until she died or returned her dowry. So Allah Most High forbade that and prohibited it.
اردو ترجمہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: {لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} (تمہارے لیے حلال نہیں کہ عورتوں کو زبردستی وراثت میں لو اور نہ انہیں روکو تاکہ جو تم نے انہیں دیا ہے اس کا کچھ حصہ لے لو، مگر یہ کہ وہ کھلی بے حیائی کریں)۔ یہ اس لیے تھا کہ آدمی اپنے قریبی رشتہ دار کی بیوی کا وارث بن جاتا اور اسے روکے رکھتا یہاں تک کہ وہ مر جائے یا اپنا مہر واپس کر دے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا اور اس سے روکا۔
