عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَدَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حُمُرَاتٍ فَجَعَلَ يَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا وَيَقُولُ " أُبَيْنِيَّ لاَ تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ اللَّطْحُ الضَّرْبُ اللَّيِّنُ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abdullah ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) narrates: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) sent us young boys of Banu Abd al-Muttalib on donkeys ahead on the night of al-Muzdalifah. He (blessings and peace of Allah be upon him) would lovingly pat our thighs and graciously state: O my dear little ones, do not throw pebbles at the Jamrah until the sun rises. Abu Dawud (upon him be mercy) said: Al-lath means to strike gently.
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بنو عبدالمطلب کے ہم چھوٹے بچوں کو گدھوں پر سوار کر کے مزدلفہ کی رات پہلے ہی روانہ فرما دیا تھا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم (شفقت سے) ہماری رانوں پر آہستہ سے تھپکی دیتے تھے اور ارشاد فرماتے تھے: اے میرے پیارے بچو! جمرہ کی رمی (کنکریاں) نہ مارنا جب تک سورج طلوع نہ ہو جائے۔ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: «لطح» کے معنیٰ آہستہ سے مارنے کے ہیں۔
