عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، - الْمَعْنَى - أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِ ابْنِ حَنْبَلٍ عَنْ حَمَّادٍ، وَمَعْنَاهُ، قَالَ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ لِكُلِّ صَلاَةٍ وَلَمْ يُنَادِ فِي الأُولَى وَلَمْ يُسَبِّحْ عَلَى أَثَرِ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا . قَالَ مَخْلَدٌ لَمْ يُنَادِ فِي وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا .
انگریزی ترجمہ
The aforesaid tradition has also been transmitted by al-Zuhri to the same effect, with the chain of Ibn Hanbal from Hammad. This version adds: With a separate iqamah for each prayer; he did not call the adhan for the first prayer, and he did not offer any supererogatory prayer after either of them. The narrator Makhlad said: He did not call the adhan for either of them.
اردو ترجمہ
اس سند سے بھی زہری سے ابن حنبل کی حماد والی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں یہ ہے کہ: ہر نماز کے لیے ایک ایک الگ اقامت کہی، اور پہلی نماز کے لیے اذان نہیں دی اور نہ ان دونوں میں سے کسی کے بعد نفل ادا فرمائی۔ مخلد فرماتے ہیں: ان دونوں میں سے کسی نماز کے لیے بھی اذان نہیں دی۔
