عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ فِيمَ الرَّمَلاَنُ الْيَوْمَ وَالْكَشْفُ عَنِ الْمَنَاكِبِ، وَقَدْ أَطَّأَ اللَّهُ الإِسْلاَمَ وَنَفَى الْكُفْرَ وَأَهْلَهُ مَعَ ذَلِكَ لاَ نَدَعُ شَيْئًا كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Aslam narrates: I heard Hadrat Umar ibn al-Khattab (may Allah be well pleased with him) say: What need is there now for ramal and baring the shoulders, when Allah the Exalted has strengthened Islam and obliterated disbelief and its adherents! Nevertheless, we shall never abandon anything that we used to do in the blessed era of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him).
اردو ترجمہ
حضرت اسلم فرماتے ہیں: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے سنا: اب رَمَل اور کندھے کھولنے کی کیا ضرورت ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو مضبوط فرما دیا ہے اور کفر اور اہلِ کفر کو مٹا دیا ہے! اس کے باوجود ہم وہ عمل ہرگز نہ چھوڑیں گے جو ہم سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے عہدِ مبارک میں کیا کرتے تھے۔
