عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَافِدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ، أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ . قَالَ فَلَمْ يَنْشَبْ أَنْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَقَلَّعُ يَتَكَفَّأُ . وَقَالَ عَصِيدَةٍ . مَكَانَ خَزِيرَةٍ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Laqit ibn Sabirah (may Allah be well pleased with him), the delegate of Banu al-Muntafiq, narrates that he came to Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha Siddiqah (may Allah be well pleased with her). The narrator then related a tradition of similar meaning. In this version: 'Shortly thereafter, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came walking briskly with a forward lean.' This narration mentions 'asidah (a type of dish) instead of khazirah.
اردو ترجمہ
حضرت بنی منتفق کے نمائندے حضرت لقیط بن صبرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ وہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئے، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔ اس میں ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تیز قدموں سے آگے کو جھکتے ہوئے تشریف لائے۔ اس روایت میں «خزيرة» کی جگہ «عصيدة» (ایک قسم کا کھانا) کا ذکر ہے۔
