Arabic (Original)
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ وَقَالَ " لاَ تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لَمْ يَرَوْا بَأْسًا أَنْ يَتَقَدَّمَ الضَّعَفَةُ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ بِلَيْلٍ يَصِيرُونَ إِلَى مِنًى . وَقَالَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُمْ لاَ يَرْمُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ . وَرَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي أَنْ يَرْمُوا بِلَيْلٍ . وَالْعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُمْ لاَ يَرْمُونَ . وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ وَالشَّافِعِيِّ . . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ثَقَلٍ حَدِيثٌ صَحِيحٌ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ . وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُشَاشٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ . وَهَذَا حَدِيثٌ خَطَأٌ أَخْطَأَ فِيهِ مُشَاشٌ وَزَادَ فِيهِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ . وَرَوَى ابْنُ جُرَيْجٍ وَغَيْرُهُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ . وَمُشَاشٌ بَصْرِيٌّ رَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ .
English Translation
Hadrat Ibn Abbas narrated:"The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) advanced the weak among his family and he said: 'Do not stone the Jamrah until the sun has risen
Urdu Translation
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اہل خانہ میں سے کمزوروں کو (مزدلفہ سے رات کو) آگے بھیجا اور ارشاد فرمایا: سورج طلوع ہونے تک جمرے کو نہ مارو۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ۲- اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، انہوں نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا کہ کمزور لوگ مزدلفہ سے رات کو منیٰ چلے جائیں۔ ۳- اکثر اہل علم نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کے مطابق کہا ہے کہ وہ سورج طلوع ہونے تک رمی نہ کریں۔ بعض اہل علم نے رات کو رمی کرنے کی رخصت دی ہے، لیکن عمل نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث پر ہے کہ وہ رمی نہ کریں (جب تک سورج نہ نکلے)۔ یہ ثوری اور شافعی کا قول ہے۔ ۴- حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی «بعثنی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم فی ثقل» والی حدیث صحیح ہے جو کئی سندوں سے مروی ہے۔ شعبہ نے یہ حدیث مشاش سے، انہوں نے عطاء سے، انہوں نے حضرت ابن عباس سے، انہوں نے فضل بن عباس سے روایت کی ہے، یہ مشاش کی غلطی ہے کہ انہوں نے فضل بن عباس کا اضافہ کیا ہے۔ ابن جریج وغیرہ نے عطاء سے حضرت ابن عباس سے روایت کیا اور فضل بن عباس کا ذکر نہیں کیا۔ مشاش بصری ہیں جن سے شعبہ نے روایت کیا ہے۔
