Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ رَجُلاً، مِنْ أَهْلِ الشَّامِ وَهُوَ يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ هِيَ حَلاَلٌ . فَقَالَ الشَّامِيُّ إِنَّ أَبَاكَ قَدْ نَهَى عَنْهَا . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَبِي نَهَى عَنْهَا وَصَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَأَمْرَ أَبِي نَتَّبِعُ أَمْ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ الرَّجُلُ بَلْ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ لَقَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ وَجَابِرٍ وَسَعْدٍ وَأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ وَابْنِ عُمَرَ . وَقَدِ اخْتَارَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمُ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَةِ . وَالتَّمَتُّعُ أَنْ يَدْخُلَ الرَّجُلُ بِعُمْرَةٍ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ ثُمَّ يُقِيمَ حَتَّى يَحُجَّ فَهُوَ مُتَمَتِّعٌ وَعَلَيْهِ دَمٌ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْىِ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ صَامَ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ وَيُسْتَحَبُّ لِلْمُتَمَتِّعِ إِذَا صَامَ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ أَنْ يَصُومَ فِي الْعَشْرِ وَيَكُونَ آخِرُهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فَإِنْ لَمْ يَصُمْ فِي الْعَشْرِ صَامَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ فِي قَوْلِ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمُ ابْنُ عُمَرَ وَعَائِشَةُ وَبِهِ يَقُولُ مَالِكٌ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ يَصُومُ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ . وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْكُوفَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَأَهْلُ الْحَدِيثِ يَخْتَارُونَ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَةِ فِي الْحَجِّ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ .
English Translation
Hadrat Salim bin Abdullah (may Allah be well pleased with him) narrated that he had heard a man from Ash-Sham asking Abdullah bin Umar about Tamattu after Umrah until Hajj, so Abdullah bin Umar said: "It is lawful." The man from Ash-Sham said: "But your father prohibited it." So Abdullah bin Umar said: "Is the order to follow my father or is the order (to follow) for the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)?" The man said: "Rather it is for the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)." So he said: "Indeed the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) did it
Urdu Translation
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ سالم بن عبداللہ نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے اہل شام میں سے ایک شخص سے سنا، وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے حج میں عمرہ سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں پوچھ رہا تھا، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا: یہ جائز ہے۔ اس پر شامی نے کہا: آپ کے والد نے تو اس سے روکا ہے؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا: ذرا تم ہی بتاؤ اگر میرے والد کسی چیز سے روکیں اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کیا ہو تو میرے والد کے حکم کی پیروی کی جائے گی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی، تو اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کیا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث ( ۸۲۲ ) حسن ہے، ۲- اس باب میں علی، حضرت عثمان، حضرت جابر، سعد، اسماء بنت ابی بکر اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے ایک جماعت نے اسی کو پسند کیا ہے کہ حج میں عمرہ کو شامل کر کے حج تمتع کرنا درست ہے، ۴- اور حج تمتع یہ ہے کہ آدمی حج کے مہینوں میں عمرہ کے ذریعہ داخل ہو، پھر عمرہ کر کے وہیں ٹھہرا رہے یہاں تک کہ حج کر لے تو وہ متمتع ہے، اس پر ہدی کی جو اسے میسر ہو قربانی لازم ہو گی، اگر اسے ہدی نہ مل سکے تو حج میں تین دن اور گھر لوٹ کر سات دن کے روزے رکھے، ۵- متمتع کے لیے مستحب ہے کہ جب وہ حج میں تین روزے رکھے تو ذی الحجہ کے ( ابتدائی ) دس دنوں میں رکھے اور اس کا آخری روزہ یوم عرفہ کو ہو، اور صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم جن میں حضرت ابن عمر اور حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی شامل ہیں کے قول کی رو سے اگر وہ دس دنوں میں یہ روزے نہ رکھ سکے تو ایام تشریق میں رکھ لے۔ یہی مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۶- اور بعض کہتے ہیں: ایام تشریق میں روزہ نہیں رکھے گا۔ یہ اہل کوفہ کا قول ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: اہل حدیث حج میں عمرہ کو شامل کر کے حج تمتع کرنے کو پسند کرتے ہیں، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
