Arabic (Original)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي سَفَرٍ فَتَخَلَّفْتُ عَنْهُ فَقَالَ أَيْنَ كُنْتَ فَقُلْتُ أَوْتَرْتُ . فَقَالَ أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُوتِرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ إِلَى هَذَا وَرَأَوْا أَنْ يُوتِرَ الرَّجُلُ عَلَى رَاحِلَتِهِ . وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ يُوتِرُ الرَّجُلُ عَلَى الرَّاحِلَةِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ نَزَلَ فَأَوْتَرَ عَلَى الأَرْضِ . وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْكُوفَةِ . آخِرُ أَبْوَابِ الْوِتْرِ
English Translation
Sa'eed bin Yasar narrated:"I was with Hadrat Ibn Umar on a journey and I fell behind him. He said: 'Where were you?' I said: 'I prayed Al-Witr.' He said: 'Is there not a good exampled for you in the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)? I saw the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) performing Al-Witr on his mount
Urdu Translation
سعید بن یسار کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ چل رہا تھا، میں ان سے پیچھے رہ گیا، تو انہوں نے پوچھا: تم کہاں رہ گئے تھے؟ میں نے کہا: میں وتر پڑھ رہا تھا، انہوں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ذات میں تمہارے لیے اسوہ نہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو تو اپنی سواری ہی پر وتر پڑھتے دیکھا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، ان کا خیال ہے کہ آدمی اپنی سواری پر وتر پڑھ سکتا ہے۔ اور یہی شافعی، احمد، اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ آدمی سواری پر وتر نہ پڑھے، جب وہ وتر کا ارادہ کرے تو اسے اتر کر زمین پر پڑھے۔ یہ بعض اہل کوفہ کا قول ہے ۱؎۔
