Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى ا��له عليه وسلم دَعَا فَاطِمَةَ عَامَ الْفَتْحِ فَنَاجَاهَا فَبَكَتْ ثُمَّ حَدَّثَهَا فَضَحِكَتْ قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلْتُهَا عَنْ بُكَائِهَا وَضَحِكِهَا . قَالَتْ أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ يَمُوتُ فَبَكَيْتُ ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلاَّ مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ فَضَحِكْتُ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
English Translation
It is narrated by Hadrat Umm Salamah that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) called for Hadrat Fatimah in the Year of the Conquest to speak to her, and she cried. Then he spoke to her and she laughed. She said: "When the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) departed this world I asked her about her crying and her laughing. She said: 'The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) informed me that he would (soon) die, so I cried. Then, he informed me that I was the master over all of the women among the inhabitants of Paradise, except for Mariam bint 'Imran, so I laughed
Urdu Translation
حضرت اُمّ المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے سال فاطمہ کو بلایا اور ان کے کان میں کچھ باتیں کہیں تو وہ رو پڑیں، پھر آپ نے دوبارہ ان سے کچھ کہا تو وہ ہنسنے لگیں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے وصال فرمایا تو میں نے ان سے ان کے رونے اور ہنسنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ بتایا تھا کہ عنقریب آپ وفات پا جائیں گے، تو ( یہ سن کر ) میں رونے لگی تھی، پھر آپ نے جب مجھے یہ بتایا کہ مریم بنت عمران کو چھوڑ کر میں اہل جنت کے تمام عورتوں کی سردار ہوں گی ۱؎، تو یہ سن کر میں ہنسنے لگی۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
