Arabic (Original)
قَالَ مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَسَأَلْتُهُ عَمَّا سَأَلْتُ عَنْهُ ثَوْبَانَ فَقَالَ عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلاَّ رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً " . قَالَ مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيُّ وَيُقَالُ ابْنُ أَبِي طَلْحَةَ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي أُمَامَةَ وَأَبِي فَاطِمَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ثَوْبَانَ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ فِي كَثْرَةِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْبَابِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ طُولُ الْقِيامِ فِي الصَّلاَةِ أَفْضَلُ مِنْ كَثْرَةِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ كَثْرَةُ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ أَفْضَلُ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ . وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ قَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا حَدِيثَانِ وَلَمْ يَقْضِ فِيهِ بِشَيْءٍ . وَقَالَ إِسْحَاقُ أَمَّا فِي النَّهَارِ فَكَثْرَةُ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَأَمَّا بِاللَّيْلِ فَطُولُ الْقِيَامِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ لَهُ جُزْءٌ بِاللَّيْلِ يَأْتِي عَلَيْهِ فَكَثْرَةُ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ فِي هَذَا أَحَبُّ إِلَىَّ لأَنَّهُ يَأْتِي عَلَى جُزْئِهِ وَقَدْ رَبِحَ كَثْرَةَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَإِنَّمَا قَالَ إِسْحَاقُ هَذَا لأَنَّهُ كَذَا وُصِفَ صَلاَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِاللَّيْلِ وَوُصِفَ طُولُ الْقِيَامِ وَأَمَّا بِالنَّهَارِ فَلَمْ يُوصَفْ مِنْ صَلاَتِهِ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ مَا وُصِفَ بِاللَّيْلِ .
English Translation
Madan [bin Talhah] said: "I met Abu Ad-Darda, and I asked him what I had asked Hadrat Thawban, so he said: 'Perform prostrations, for I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) saying: 'No worshipper performs a prostration to Allah except that by it Allah will raise him a level, and erase a sin from him for it
Urdu Translation
معدان کہتے ہیں کہ پھر میری ملاقات حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی تو میں نے ان سے بھی اسی چیز کا سوال کیا جو میں نے ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا تھا تو انہوں نے بھی کہا کہ تم سجدے کو لازم پکڑو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ”جو بندہ اللہ کے واسطے کوئی سجدہ کرے گا تو اللہ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا اور ایک گناہ مٹا دے گا“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- رکوع اور سجدے کثرت سے کرنے کے سلسلے کی ثوبان اور حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوہریرہ، حضرت ابوامامہ اور ابوفاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اس باب میں اہل علم کا اختلاف ہے بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نماز میں دیر تک قیام کرنا کثرت سے رکوع اور سجدہ کرنے سے افضل ہے۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ کثرت سے رکوع اور سجدے کرنا دیر تک قیام کرنے سے افضل ہے۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اس سلسلے میں دونوں طرح کی حدیثیں مروی ہیں، لیکن اس میں ( کون راجح ہے اس سلسلہ میں ) انہوں نے کوئی فیصلہ کن بات نہیں کہی ہے۔ اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ دن میں کثرت سے رکوع اور سجدے کرنا افضل ہے اور رات میں دیر تک قیام کرنا، الا یہ کہ کوئی شخص ایسا ہو جس کا رات کے حصہ میں قرآن پڑھنے کا کوئی حصہ متعین ہو تو اس کے حق میں رات میں بھی رکوع اور سجدے کثرت سے کرنا بہتر ہے۔ کیونکہ وہ قرآن کا اتنا حصہ تو پڑھے گا ہی جسے اس نے خاص کر رکھا ہے اور کثرت سے رکوع اور سجدے کا نفع اسے الگ سے حاصل ہو گا، ۴- اسحاق بن راہویہ نے یہ بات اس لیے کہی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے قیام اللیل ( تہجد ) کا حال بیان کیا گیا ہے کہ آپ اس میں دیر تک قیام کیا کرتے تھے، رہی دن کی نماز تو اس کے سلسلہ میں یہ بیان نہیں کیا گیا ہے کہ آپ ان میں رات کی نمازوں کی طرح دیر تک قیام کرتے تھے۔
