Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَادَ رَجُلاً قَدْ جُهِدَ حَتَّى صَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ فَقَالَ لَهُ " أَمَا كُنْتَ تَدْعُو أَمَا كُنْتَ تَسْأَلُ رَبَّكَ الْعَافِيَةَ " . قَالَ كُنْتُ أَقُولُ اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الآخِرَةِ فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّكَ لاَ تُطِيقُهُ - أَوْ لاَ تَسْتَطِيعُهُ أَفَلاَ كُنْتَ تَقُولُ اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
English Translation
Hadrat Anas bin Malik narrated that The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) visited a man who was so emaciated that he had become like a baby bird. He (blessings and peace of Allah be upon him) said to him: “And did you not used to supplicate? Did you not used to ask Your Lord for sound health?” He said: “I used to say: “O Allah, whatever You are going to punish me with in the Hereafter, then hasten it for me in this world.” So the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: “Glory is to Allah, you are not capable of that” – or – “you are not able to stand that. Would you not say: ‘O Allah, give us good in this world, and good in the Hereafter, and spare us the punishment of the Fire (Allāhumma ātinā fid-dunyā ḥasanatan wa fil ākhirati ḥasanatan wa qinā `adhāban-nār).’”
Urdu Translation
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک صحابی کی جو بیماری سے سخت لاغر اور سوکھ کر چڑیا کے بچے کی طرح ہو گئے تھے عیادت کی، آپ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم اپنے رب سے اپنی صحت و عافیت کی دعا نہیں کرتے تھے؟“ انہوں نے کہا: میں دعا کرتا تھا کہ اے اللہ! جو سزا تو مجھے آخرت میں دینے والا تھا وہ سزا مجھے تو دنیا ہی میں پہلے ہی دیدے، نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سبحان اللہ! پاک ہے اللہ کی ذات، تو اس سزا کو کاٹنے اور جھیلنے کی طاقت و استطاعت نہیں رکھتا، تم یہ کیوں نہیں کہا کرتے تھے: «اللهم آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار» ”اے اللہ! تو ہمیں دنیا میں بھی نیکی، اچھائی و بھلائی دے اور آخرت میں بھی حسنہ، نیکی بھلائی و اچھائی دے، اور بچا لے تو ہمیں جہنم کے عذاب سے“ ( البقرہ: ۲۰۱ ) ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث حضرت انس بن مالک کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے دیگر کئی اور سندوں سے بھی آئی ہے۔
