Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ كَانَ عُمَرُ يَسْأَلُنِي مَعَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَتَسْأَلُهُ وَلَنَا بَنُونَ مِثْلُهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ إِنَّهُ مِنْ حَيْثُ تَعْلَمُ فَسَأَلَهُ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ : ( إذا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ) فَقُلْتُ إِنَّمَا هُوَ أَجَلُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْلَمَهُ إِيَّاهُ وَقَرَأَ السُّورَةَ إِلَى آخِرِهَا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلاَّ مَا تَعْلَمُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَتَسْأَلُهُ وَلَنَا ابْنٌ مِثْلُهُ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
English Translation
Hadrat Ibn Abbas said:“Umar used to ask me questions in front of the Companions of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). So Abdur-Rahman bin Awf said to him: ‘Why do you ask him, while we have children like him?’” He said: “Umar said to him: ‘It is because of what you know (about him).’ So he asked him about this Ayah: ‘When there comes the help of Allah and the Conquest.’ I said: “It is only regarding the (end of the) life span of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), informing him of it.” Then he recited the Surat until its end. So Umar said to him: “By Allah! I know not about it, but what you know.”
Urdu Translation
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی موجودگی میں عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھ سے ( مسئلہ ) پوچھتے تھے ( ایک بار ) حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا: آپ ان ہی سے کیوں پوچھتے ہیں جب کہ ہمارے بھی ان کے جیسے بچے ہیں ( کیا بات ہے؟ ) عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں جواب دیا وہ جس مقام و مرتبہ پر ہے وہ آپ کو معلوم ہے۔ پھر انہوں نے ان سے اس آیت «إذا جاء نصر الله والفتح» کے بارے میں پوچھا، ( حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں ) میں نے کہا: اس میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا وصال کی خبر ہے، اللہ نے آپ کو آگاہ کیا ہے، انہوں نے یہ پوری سورۃ شروع سے آخر تک پڑھی، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا: قسم اللہ کی! میں نے اس سورۃ سے وہی سمجھا اور جانا جو تو نے سمجھا اور جانا ہے ۱؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم سے بیان کیا محمد بن بشار نے، وہ کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا محمد بن جعفر نے، وہ کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا شعبہ نے اور انہوں نے روایت کی اسے اسی سند کے ساتھ اسی طرح ابوبشر سے مگر فرق صرف اتنا ہے کہ وہ کہتے ہیں: حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا: «أتسأله ولنا أبناء مثله» ۲؎۔
