Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ خَيْبَرَ أَسْرَى لَيْلَةً حَتَّى أَدْرَكَهُ الْكَرَى أَنَاخَ فَعَرَّسَ ثُمَّ قَالَ " يَا بِلاَلُ اكْلأْ لَنَا اللَّيْلَةَ " . قَالَ فَصَلَّى بِلاَلٌ ثُمَّ تَسَانَدَ إِلَى رَاحِلَتِهِ مُسْتَقْبَلَ الْفَجْرِ فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ فَنَامَ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ أَحَدٌ مِنْهُمْ وَكَانَ أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ " أَىْ بِلاَلُ " . فَقَالَ بِلاَلٌ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْتَادُوا " . ثُمَّ أَنَاخَ فَتَوَضَّأَ فَأَقَامَ الصَّلاَةَ ثُمَّ صَلَّى مِثْلَ صَلاَتِهِ لِلْوَقْتِ فِي تَمَكُّثٍ ث��مَّ قَالَ : (وأقِمِ الصَّلاَةَ لِذِكْرِي ) . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَصَالِحُ بْنُ أَبِي الأَخْضَرِ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ .
English Translation
It is narrated by Hadrat Abu Hurairah that "While the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was returning from Khaibar he traveled during the night until he became sleepy and he sat down to rest. Then he said: 'O Hadrat Bilal! Stand guard for us for the night.'" He said: 'So Hadrat Bilal performed Salat, then he leaned against his mount facing the direction of (dawn awaiting) Fajr. His eyes overcame him until he slept, and not one of them awoke. The first of them to awaken was the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) who said: 'O Hadrat Bilal!' Hadrat Bilal said: 'May my father be ransomed for you O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! I was overtaken just as you were overtaken.' So the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Move out!' Then he kneeled to perform Wudu and to announce the standing for the Salat, then he performed Salat the same as he would when not traveling. Then he said: 'And establish the Salat for My rememberance (20:)
Urdu Translation
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم خیبر سے لوٹے، رات کا سفر اختیار کیا، چلتے چلتے آپ کو نیند آنے لگی ( مجبور ہو کر ) اونٹ بٹھایا اور قیام کیا، حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ”بلال! آج رات تم ہماری حفاظت و پہرہ داری کرو“، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: حضرت بلال نے ( جاگنے کی صورت یہ کی کہ ) نماز پڑھی، صبح ہونے کو تھی، طلوع فجر ہونے کا انتظار کرتے ہوئے انہوں نے اپنے کجاوے کی ( ذرا سی ) ٹیک لے لی، تو ان کی آنکھ لگ گئی، اور وہ سو گئے، پھر تو کوئی اٹھ نہ سکا، ان سب میں سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے، آپ نے فرمایا: ”بلال! ( یہ کیا ہوا؟ ) “ حضرت بلال نے عرض کیا: میرے باپ آپ پر قربان، مجھے بھی اسی چیز نے اپنی گرفت میں لے لیا جس نے آپ کو لیا، آپ نے فرمایا: ”یہاں سے اونٹوں کو آگے کھینچ کر لے چلو، پھر آپ ( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ) نے اونٹ بٹھائے، وضو کیا، نماز کھڑی کی اور ویسی ہی نماز پڑھی جیسی آپ اطمینان سے اپنے وقت پر پڑھی جانے والی نمازیں پڑھا کرتے تھے۔ پھر آپ نے آیت «أقم الصلاة لذكري» ”مجھے یاد کرنے کے لیے نماز پڑھو“ ( طہٰ: ۱۴ ) ، پڑھی۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث غیر محفوظ ہے، اسے کئی حافظان حدیث نے زہری سے، زہری نے سعید بن مسیب سے اور سعید بن مسیب نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے، ان لوگوں نے اپنی روایتوں میں حضرت ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا ہے، ۲- صالح بن ابی الاخضر حدیث میں ضعیف قرار دیئے جاتے ہیں۔ انہیں یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے حفظ کے تعلق سے ضعیف کہا۔
