Arabic (Original)
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، هُوَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : ( مِِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ ) سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَعَلَى مَا نَعْمَلُ عَلَى شَيْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَوْ عَلَى شَيْءٍ لَمْ يُفْرَغْ مِنْهُ قَالَ " بَلْ عَلَى شَيْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ وَجَرَتْ بِهِ الأَقْلاَمُ يَا عُمَرُ وَلَكِنْ كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَمْرٍو .
English Translation
It is narrated by Hadrat Ibn 'Umar that 'Umar bin Al-Khattab said: "When this Ayah was revealed: Some among them will be wretches and (others) blessed (11:105). I asked the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) saying: 'O the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) of Allah! Based upon what are we then working; something that has already finished or something that has not yet happened?' He said: 'Rather something that has happened, and the Pens have already passed over it O 'Umar! But for everyone, what he has been created for is made easy
Urdu Translation
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آیت «فمنهم شقي وسعيد» ”سو ان میں کوئی بدبخت ہو گا اور کوئی نیک بخت“ ( ہود: ۱۰۵ ) ، نازل ہوئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے نبی! پھر ہم کس چیز کے موافق عمل کریں؟ کیا اس چیز کے موافق عمل کریں جس سے فراغت ہو چکی ہے ( یعنی جس کا فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے ) ؟ یا ہم ایسی چیز پر عمل کریں جس سے ابھی فراغت نہیں ہوئی ہے۔ ( یعنی اس کا فیصلہ ہمارا عمل دیکھ کر کیا جائے گا ) آپ نے فرمایا: ”عمر! ہم اسی چیز کے موافق عمل کرتے ہیں جس سے فراغت ہو چکی ہے۔ ( اور ہمارے عمل سے پہلے ) وہ چیز ضبط تحریر میں آ چکی ہے ۲؎، لیکن بات صرف اتنی ہے کہ ہر شخص کے لیے وہی آسان ہے جس کے لیے وہ پیدا ہوا ہے“ ۳؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف عبدالملک بن عمرو کی حدیث سے جانتے ہیں۔
